گیس کمپنی نے بلوں کی مد میں عوام سے کروڑوں روپے کمالیے
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سوئی سدرن گیس کمپنی حیدرآباد کی جانب سے لطیف آبادکے شہریوں پر فروری 2026کے موصولہ بلوں میں لاکھوں روپے سے زائد کے نا جائز و غیر منصفانہ طور پر سلو میٹر گیس چار جز کی مد میں لگا دیئے گئے جس سے شہریوں کو شدید مالی نقصان و ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کسٹمر سینٹر لطیف آباد پر موجود لوگوں اور چارنمبر کے رہائشی و سینر صحافی جاوید علی نے اس سلسلے میں بتایاکہ وزارت گیس و توانائی اربوں روپے کی اشتہاری مہم چلا کر قوم کو گیس کم استعمال کرنے کی ترغیب دے رہی ہے جبکہ سو سدرن گیس کمپنی حیدرآباد کے نااہل و سیاسی بنیادوں پر بھرتی شدہ افسران موجودہ حکومت کو ناکام بنانے کے لے مختلف عنوان پر ناجائز بلوں کا اجراء کررہے ہیں ۔ انہوں نے بتایاکہ لطیف آباد یونٹ نمبر 2میں واقع سوئی سدرن گیس کمپنی کا کسٹمر سروس سینٹر کا عملہ صارفین کے مسائل سننے کے لیے تیار نہیں ہے اور کمپنی کی پالیسی کا بہانہ بنا کر انہیں واپس کر دیا جاتاہے ۔کسٹمر سروس سینٹر میں بلوں کی اقساط اور اضافی بلوں کی درستگی کے لئے گھنٹوں صارفین کی لمبی قطاریں لگنا روز کامعمول بن چکا ہے ،ناقص انتظامات افسران و عملے کا صارفین سے ہتک آمیز رویہ تلخ کلامی کی شکایات زدعام ہیں گیس صارفین خصوصاً خواتین اذیت ناک صورتحال سے دوچار اور زائد بلنگ کے مسائل حل نہ ہونے پر ان میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ من مانے چارجز، پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ کے نام پر بھی لوٹا جارہاہے جو کسی اذیت سے کم نہیں ۔صارفین کا کہناتھاکہ کوئی ہماری جائز شکایت سننے کو بھی کو تیار نہیں ہے ۔صارفین نے وفاقی وزیر قدرتی گیس و توانائی اور وزیراعظم سے سدرن گیس کے بدترین مظالم کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔