گوجرانوالہ:شہر میں مبینہ زمین فراڈ کے ایک بڑے معاملے میں پولیس نے فرحت شہزادی عرف فرح گوگی، ان کے شوہر احسن جمیل گجر اور متعدد دیگر افراد کے خلاف دھوکا دہی اور فراڈ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے، جس میں اہم سیاسی و سماجی شخصیات کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق تھانہ صدر میں درج ایف آئی آر میں مسلم لیگ (ن) کے سابق صوبائی وزیر چوہدری اقبال گجر کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو فرح گوگی کے سسر اور احسن جمیل کے والد ہیں۔ مقدمے میں ان کے خاندان کے دیگر افراد، جن میں بیٹے، بھائی اور بھتیجے شامل ہیں، کے علاوہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے منیجر اور بعض ملازمین کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق متعلقہ سوسائٹی سن 2005 میں قائم کی گئی تھی اور بعد ازاں پی ٹی آئی دور حکومت میں گوجرانوالہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے منظوری حاصل کی گئی۔ درخواست گزار کا الزام ہے کہ ملزمان نے سوسائٹی میں پارک، اسکول اور قبرستان کے لیے مختص اراضی کو غیر قانونی طور پر فروخت کیا۔

مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے سرکاری زمین کی فروخت کے لیے جعلی دستاویزات تیار کیں اور خریداروں کو دھوکا دیا، جس سے نہ صرف شہریوں کو مالی نقصان پہنچا بلکہ سرکاری ریکارڈ میں بھی بے ضابطگیاں پیدا ہوئیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور تمام نامزد افراد کے کردار کا جائزہ لے کر شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی، اگر الزامات ثابت ہوئے تو ملزمان کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ متاثرین کو انصاف فراہم کرنا اولین ترجیح ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کیا گیا ہے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل