زکوۃ ایک ہی شخص کو دینی چاہیے یا متعدد افراد میں تقسیم کرنا بہتر ہے
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
زکوٰۃ کی رقم ایک فرد کو دینا بھی جائز ہے اور متعدد مستحق افراد میں تقسیم کرنا بھی جائز ہے، دونوں صورتوں میں زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے۔
شریعت نے اس معاملے میں زکوٰۃ دینے والے کو اختیار دیا ہے کہ وہ حالات اور ضرورت کے مطابق فیصلہ کرے۔
البتہ افضلیت کا دارومدار مستحق افراد کی ضرورت پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایک مستحق شخص شدید ضرورت مند ہے، مثلاً وہ مقروض ہے، اس کے اہل و عیال زیادہ ہیں یا اس کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں، تو ایسی صورت میں اسے زکوٰۃ کی پوری رقم دینا افضل ہے تاکہ اس کی مشکل مکمل طور پر حل ہو سکے اور وہ کسی حد تک خود کفیل بن جائے۔
دوسری طرف اگر زکوٰۃ کی پوری رقم ایک شخص کی ضرورت سے زیادہ ہو اور اس سے اس کی ضرورت پوری ہونے کے بعد بھی رقم بچ جائے، تو ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ زکوٰۃ کو متعدد مستحق افراد میں تقسیم کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند لوگوں کو فائدہ پہنچ سکے۔
فقہی طور پر یہ بات بھی ذکر کی گئی ہے کہ بلا ضرورت کسی ایک شخص کو اتنی زیادہ زکوٰۃ دینا کہ وہ صاحبِ نصاب بن جائے، مکروہ ہے، لیکن اگر دے دی جائے تو زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اصل ترجیح ضرورت کو دیکھنا ہے: اگر ایک شخص کی بڑی ضرورت ہو تو اسے دینا افضل ہے، اور اگر کئی لوگ ضرورت مند ہوں تو تقسیم کرنا افضل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔