عدالت عظمیٰ… ہدف پر نظر ثانی کی ضرورت
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
عدالت عظمیٰ نے پھانسی اور عمر قید کے زیر التوا مقدمات نمٹانے کے لیے آئندہ پنتالیس (45) روز کا ہدف متعین کیا ہے اس ضمن میں عدالت عظمیٰ کی طرف سے جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق موجودہ منصف اعلیٰ جسٹس یحییٰ آفریدی کی قیادت میں اکتوبر 2024ء سے فوجداری مقدمات کی مجموعی زیر التوا تعداد 19 ہزار 549 سے کم ہو کر 12 ہزار 705 رہ گئی۔ 9 سے 14 فروری 2026ء کے دوران عدالت عظمیٰ نے سزائے موت اور عمر قید سے متعلق 3 5 4 فوجداری مقدمات نمٹائے، اسی ہفتے سزائے موت اور عمر قید سے متعلق 131 نئے مقدمات دائر ہوئے۔ ہفتہ وار بنیاد پر نمٹائے گئے مقدمات کی شرح دائر ہونے والے مقدمات سے تقریباً 270 فی صد زیادہ رہی فیصلہ کیا گیا کہ جنوری 2026ء تک کے تمام زیر التوا سزائے موت کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔ اعلامیہ کے مطابق مخصوص بنچز، اصلاحاتی گروپس اور عدالتی ٹیمیں مربوط حکمت عملی کے تحت اہداف کے حصول کے لیے سرگرم ہیں۔ چیف جسٹس نے زیر سماعت قیدیوں سے متعلق جیل پٹیشنز کو منظم اور تیز رفتار بنانے کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔ نظام عدل کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے یوں اگر وطن عزیز میں نظام انصاف کا جائزہ لیا جائے تو دیگر بہت سی خرابیوں کے ساتھ ساتھ ایک سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ شہریوں کو بروقت انصاف نہیں مل پاتا اور یہ محض محاورتاً مشہور جملہ ہی نہیں کہ دادا عدالت سے انصاف کے لیے رجوع کرتا ہے اور پوتے، پڑپوتے انصاف کے انتظار میں عدالتوں کے چکر لگاتے پائے جاتے ہیں، اس کی بہت سی عملی تعبیریں عدالتوں کے ریکارڈ میں پائی جاتی ہیں اور آئے روز ذرائع ابلاغ کی زینت بھی بنتی رہتی ہیں کہ عدالت کسی ملزم کو سالہا سال کی سماعتوں کے بعد کسی مقدمے میں بے گناہ اور بری کرنے کا اعلان کرتی ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ بری کیا جانے والا ملزم تو مدت ہوئی انصاف کے انتظار میں اور انصاف نہ ملنے کی شکایت لے کر منصف حقیقی کے حضور پیش ہو چکا ہوتا ہے۔ سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات 45 روز میں نمٹانے سے متعلق عدالت عظمیٰ کی طرف سے جاری کیا جانے والا اعلامیہ بھی اس حقیقت کی گواہی دے رہا ہے کہ ہمارے نظام عدل میں انصاف کی فراہمی کس قدر تاخیر کی شکار ہے اعلامیہ کے مطابق اکتوبر 2024ء میں زیر التوا مقدمات کی مجموعی تعداد 19549 تھی جن میں سے عدالت عظمیٰ نے سوا سال کی مدت میں سات ہزار سے کچھ کم مقدمات کا فیصلہ سنایا اور 12705مقدمات اب بھی فیصلہ طلب ہیں جن کو نمٹانے کے لیے عدالت عظمیٰ نے از خود 45 روز کی مدت مقرر کی ہے اگرچہ یہ مدت محترم منصف اعلیٰ اور ان کے ساتھی ججوں نے بظاہر نیک نیتی سے مقرر کی ہے جس کی تشہیر بھی ضروری سمجھی گئی ہے تاہم عدالت عظمیٰ کے اس ہدف کو کسی بھی صورت حقیقت پسندانہ قرار نہیں دیا جا سکتا عوام کو انصاف یقینا سستا اور فوری فراہم ہونا چاہیے مگر اس کوشش میں جلد بازی کو بھی کسی صورت قرین انصاف تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے اپنے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق کم و بیش سوا برس کی مدت میں خاصی تگ و دو کے بعد عدالت عظمیٰ کے محترم جج صاحبان بڑی مشکل سے فیصلہ شدہ مقدمات کی تعداد کو سات ہزار کے قریب پہنچا سکے ہیں اب ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ صرف 45 دن کی مختصر مدت میں تیرہ ہزار کے قریب مقدمات کا فیصلہ اس طرح کر دیں گے کہ انصاف کے تقاضے بھی پورے ہو جائیں اور فریقین مقدمہ کی شکایات کا ازالہ بھی آئین و قانون کے مطابق ہو جائے، کسی طرح عقل تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ محض ہدف کے حصول کی خاطر ممکن ہے اتنی بڑی تعداد میں مقدمات کے فیصلے تو سنا دیے جائیں مگر عدالت عظمیٰ کی سطح پر اس حقیقت کا ادراک کیا جانا اور فیصلوں سے قبل اسے پیش نظر رکھا جانا بھی نہایت ضروری ہے کہ محض تیز رفتاری سے زیر التوا مقدمات کو نمٹانے سے انصاف کا معیار بری طرح متاثر ہونے کے شدید خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس اعلیٰ ترین سطح پر جس کے بعد اپیل کا کوئی بالاتر فورم باقی نہیں رہتا، سائلین کو حقیقی معنوں میں انصاف کی فراہمی کے لیے رفتار کے ساتھ ساتھ معیار کا برقرار رکھا جانا بھی ناگزیر ہے خصوصاً سزائے موت اور عمر قید کی سخت ترین سزائوں کے معاملہ میں گواہوں کے بیانات، دیگر شواہد اور قانونی نکات کی باریکیوں کا گہرائی میں جا کر جائزہ لیا جانا بھی معیاری انصاف کے تقاضوں میں شامل ہے اسی طرح ایسے سنگین سزائوں کے معاملات میں آئین میں بیان کیے گئے بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی سطح پر ان کی نگرانی کا خیال رکھا جانا بھی فیصلہ سنائے جانے سے قبل لازم ہے۔ عدالتی نظام میں شدت سے محسوس کیے جانے والے جمود کو توڑنے کے لیے عدالت عظمیٰ کا سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات سے متعلق 45 روز میں نمٹائے جانے کا ہدف اگرچہ عدالتوں کا بوجھ کم کرنے کے ضمن میں بہت اچھی اور قابل قدر پیش رفت محسوس ہوتی ہے تاہم فیصلوں کا معیار برقرار رکھنے، عدالتوں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے اور آئین و قانون کے تقاضوں کی تکمیل کی خاطر اس میں کسی انا کو آڑے نہیں آنا چاہیے کہ عدالت عظمیٰ کے محترم اور فاضل جج صاحبان اپنے 45 دن میں تیرہ ہزار مقدمات کے فیصلے سنانے کے ہدف پر نظر ثانی کریں اور اسے قابل عمل اور حقیقت پسندانہ بنانے کے لیے اس پر دوبارہ سنجیدگی سے غور کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سزائے موت اور عمر قید عدالت عظمی مقدمات کی زیر التوا انصاف کے کے مطابق جانا بھی کے لیے کیا جا
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔