مریم نواز کی چوہدری شوگر ملز میں جمع گارنٹی کی رقم واپسی کیلئے درخواست کا تحریری فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کی چوہدری شوگر ملز میں بطور گارنٹی جمع کرائی گئی رقم کی واپسی کیلئے دائر درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے نیب کو ایک ہفتے میں انویسٹی گیشن بند کرنے کے لیے احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کر دی۔
فیصلہ کے مطابق نیب ایک ہفتے کے اندر کیس بند کرنے کا ریفرنس احتساب عدالت لاہور میں دائر کرے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ احتساب عدالت ایک ماہ میں ریفرنس پر فیصلہ کرے گی۔
لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو بطور جمع کرائی گئی7 کروڑ رقم واپسی کی استدعا کی۔
اس میں مزید کہا گیا نیب رپورٹ کے مطابق 2020 میں مریم نواز کے خلاف انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کیا گیا، تفتیش مکمل ہونے پر بتایا گیا کہ کیس میں کہیں کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔
فیصلے میں کہا گیا تفتیشی افسر نے نیب ترمیمی ایکٹ کے تحت کیس کلوز کرکے تفتیش بند کر دی، نیب ترمیمی ایکٹ تفتیش بند کرنے کی رپورٹ متعلقہ عدالت میں دائر کرنے سے نہیں روکتا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا سپریم کورٹ کے مطابق چیئرمین نیب خود سے عدالتی اختیار استعمال کرتے ہوئے انویسٹی گیشن بند نہیں کرسکتے، یہ اختیار صرف عدالتوں کے پاس ہے۔
فیصلے کے مطابق نیب ترمیمی ایکٹ میں واضح لکھا ہے کہ انویسٹی گیشن بند کرنے یا واپس لینے کے لیےمتعلقہ کورٹ سے رجوع کرنا ہوگا۔
اس میں مزید کہا گیا کہ نیب کے بیان کے بعد ضروری ہے کہ کیس بند کرنے کےلیے احتساب عدالت سے رجوع کیا جائے، عدالت نے متعدد ہدایات کے ساتھ درخواست نمٹا دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انویسٹی گیشن احتساب عدالت کے مطابق کہا گیا گیا کہ
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔