پشاور: محکمہ اوقاف خیبرپختونخوا کے 12 ملازمین کی ملازمتیں فوری ختم کرنےکا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور سرکاری احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے والے ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا,جس کے تحت محکمہ اوقاف کے 12 ملازمین کی ملازمتیں فوری ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

محکمہ اوقاف خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ان ملازمین کو صوبائی حکومت کی ہدایات کے باوجود "اسمارٹ اٹینڈنس رجسٹریشن” نہ کرنے اور مسلسل غیر حاضری کی بنیاد پر برطرف کیا گیا ہے۔

گاڑیوں  کی نمبر پلیٹس ڈجٹ نمبر میں اضافہ،3کی بجائے4 ہندسے ہونگے

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ملازمین ڈیوٹی سے مسلسل غائب تھے اور ڈیجیٹل حاضری کے نظام کو اپنانے سے انکاری تھے۔

محکمہ اوقاف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

ترجمان نے کہا کہ برطرف کیے گئے ملازمین کو متعدد بار وارننگ دی گئی تھی، تاہم عمل درآمد نہ ہونے پر یہ انتہائی قدم اٹھایا گیا۔

محکمہ نے مزید خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ حاضری اور دیگر سرکاری ضوابط پر عمل نہ کرنے والے دیگر ملازمین کے خلاف بھی مزید سخت انتظامی ایکشن لیا جائے گا۔

لاہور میں 260 ٹریفک حادثات؛ ایک شخص جاں بحق ،300 افراد زخمی 

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے تمام سرکاری محکموں میں شفافیت اور حاضری کو یقینی بنانے کے لیے اسمارٹ اٹینڈنس سسٹم لازمی قرار دے رکھا ہے تاکہ "گھوسٹ ملازمین” کا خاتمہ کیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: محکمہ اوقاف

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن