کاروباری برادری کی سہولت کے لیے چیمبر میں مزید فزسلیٹیش ڈسکسس قائم کیے جائیں گے، سردار طاہر محمود WhatsAppFacebookTwitter 0 18 February, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی)کے صدر سردار طاہر محمود نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ چیمبر کاروباری برادری کی مدر باڈی ہونے کے ناطے کاروبار میں آسانی کو یقینی بنانے کے لیے پبلک پرائیویٹ سیکٹرز کے درمیان موثر وکالت کا کردار ادا کرتے ہوئے کاروباری ترقی کو فروغ دینے کے لیے پوری طرح پر عزم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹریڈرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آئی ایٹ مرکز کے ایک بڑے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس نے صدر چوہدری وحید مشتاق چیمہ کی قیادت میں چیمبر کا دورہ کیا۔

چیمبر کے سہولت کاری کے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ چیمبر میں مختلف سہولت کاری ڈیسک پہلے سے کام کر رہے ہیں اور کاروباری برادری کو مزید سہولت فراہم کرنے کے لیے وزارت خارجہ، پاسپورٹ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ڈرائیونگ لائسنس کے لیے اضافی ڈیسک قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چیمبر کی قیادت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلی افسران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے جس کی وجہ سے آئی سی سی آئی ضلعی انتظامیہ، آئیسکو اور سوئی گیس سے متعلق معاملات کے علاوہ سی ڈی اے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے متعلق کئی اہم مسائل کو کامیابی سے حل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔سردار طاہر محمود نے تاجروں اور صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ چیمبر کا ممبر بنیں کیونکہ ایک بڑی ممبر شپ سے چیمبر کی آواز مضبوط ہوگی اور کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لیے اس کی اثر انگیزی میں اضافہ ہوگا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ٹریڈرز ویلفیئر ایسوسی ا یشن آئی ایٹ مرکز کے صدر چوہدری وحید مشتاق چیمہ نے آئی سی سی آئی قیادت کا فعال کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا اور مرکز میں تاجروں کو درپیش اہم مسائل پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کثیر المنزلہ پارکنگ پلازہ کی تعمیر، ٹیوب ویل کی تنصیب، پھولوں کی مارکیٹ کے لیے جگہ مختص کرنے، صفائی ستھرائی کو بہتر بنانے، سیوریج کی نئی لائنیں بچھانے اور اسٹریٹ لائٹس کی بحالی پر زور دیا۔جنرل سیکرٹری رانا محمد بلال نے بعض محکموں کے اہلکاروں کی جانب سے ہراساں کیے جانے کو تاجروں کے لیے ایک بڑی تشویش قرار دیا، خاص طور پر ایف بی آر کی جانب سے پی او ایس سسٹم کی تنصیب کے سلسلے میں۔چیئرمین یاسر جمیل عباسی نے آئی سی سی آئی کے ساتھ وابستہ ہونے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے اسے کاروباری برادری کے مسائل کے حل بارے ایک باوقار ادارہ قرار دیا۔ صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے بھی تاجر برادری کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہونے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور تاجروں کے تحفظات دور کرنے کے لیے آئی سی سی آئی کی قیادت کے ساتھ قریبی تعاون کا عہد کیا۔آئی سی سی آئی کے نائب صدر عرفان چوہدری نے اپنے اظہار تشکر میں شرکا کو کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینے کے لیے چیمبر کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔اس موقع پر کونسل ممبر چوہدری مسعود، ایگزیکٹو ممبران ذوالقرنین عباسی، اسحاق سیال، سابق سینئر نائب صدر خالد محمود چوہدری، توصیف زمان اور دیگر بھی موجود تھے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسفیر ڈاکٹر عمر کی وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل اقوامِ متحدہ سے ملاقات سفیر ڈاکٹر عمر کی وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل اقوامِ متحدہ سے ملاقات عدم اعتماد صرف میں لا سکتا، کامیاب کرانا بھی جانتا ہوں: صدر مملکت سانحہ گل پلازہ: لائٹ بند نہ ہوتی تو جانیں بچ سکتی تھیں: چیف فائر افسر کے کمیشن کے سامنے سنسنی خیز انکشافات جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر تعینات سپریم کورٹ: لطیف کھوسہ کی عمران خان سے ملاقات کی درخواست مسترد مرد عورتوں کے محافظ ہیں قاتل نہیں، سپریم کورٹ نے بیوی کو قتل کرنے والے منشیات کے عادی شوہر کی اپیل خارج کر دی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سردار طاہر محمود کاروباری برادری آئی سی سی آئی کے کرتے ہوئے کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان