دھمکیاں اور بلیک میلنگ، مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچائیں گی، روس
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں ماریہ زاخارووا کا کہنا تھا کہ ماسکو، کسی حل تک پہنچنے اور ممکنہ معاہدوں پر عملدرآمد کیلئے سیاسی و سفارتی کوششوں میں سہولت فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔ اسلام ٹائمز۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان "ماریہ زاخارووا" نے ایران-امریکہ جوہری مذاکرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو کو امید ہے کہ اس سارے عمل میں عقل غالب رہے گی اور خطے کو تباہ کن نتائج کے ساتھ کسی نئی فوجی محاذ آرائی کی جانب نہیں گھسیٹا جائے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار، ایران پر ممکنہ حملے کی امریکی دھمکیوں اور خطے میں واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی کے تناظر میں کیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ دھمکیاں اور بلیک میلنگ، ظاہری طور پر مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچائیں گی۔
روس سمجھتا ہے کہ ایرانی جوہری مسئلے کا قابل قبول حل تلاش کرنے کے لئے، باہمی احترام کی بنیاد پر مساوی مذاکرات کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ اس مسئلے کا کوئی منطقی متبادل موجود نہیں۔ اس سینئر روسی ڈپلومیٹ نے کہا کہ ماسکو، کسی حل تک پہنچنے اور ممکنہ معاہدوں پر عمل درآمد کے لئے سیاسی و سفارتی کوششوں میں سہولت فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔ دوسری جانب روس کے صدارتی ترجمان "ڈیمٹری پسکوف" نے کہا کہ ہم ایران کی اضافی افزودہ یورینیم کو محفوظ رکھنے کے لئے تیار ہیں۔ ڈیمٹری پسکوف نے یہ بیان اس وقت دیا جب ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں تہران کی افزودہ یورینیم کی مقدار پر بات چیت جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔