ایران ٹرمپ کی بعض ’ریڈ لائنز‘ پر بات چیت کیلئے تیار نہیں، نائب امریکی صدر کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
واشنگٹن: نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور بعض پہلوؤں سے تعمیری رہا ہے۔
اپنے بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پُرعزم ہے۔
مزید پڑھیںایران امریکا مذاکرات میں بڑی پیش رفت، کیا معاہدہ قریب ہے؟ ایران کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا
امریکا اور ایران کے درمیان جنیوا میں مذاکرات کا دوسرا دور شروع
ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی میزائل مشقیں اچانک بند کردیں؛ وجہ سامنے آگئی
انہوں نے کہا کہ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھی ہے، تاہم ایران ابھی تک صدر ٹرمپ کی مقرر کردہ بعض ’ریڈ لائنز‘ پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔
نائب صدر کا کہنا تھا کہ امریکا سفارتی عمل جاری رکھے گا، لیکن صدر ٹرمپ کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ کسی بھی وقت یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ سفارتکاری اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔
جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی کہ معاملات اس نہج تک نہیں پہنچیں گے اور مذاکرات کے ذریعے ہی حل تلاش کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے ان ریڈ لائنز کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔