ایران بعض ریڈ لائنز پر بات چیت کے لیے تاحال تیار نہیں، جے ڈی وینس
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں امریکا کے نائب صدر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ جب چاہیں یہ کہہ سکتے ہیں کہ سفارتکاری اپنے فطری انجام کو پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بات کی نوبت نہیں آئے گی، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر ایسا ہوا تو یہ صدر پر منحصر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران سے مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ بعض صورتوں میں تعمیری رہا، تاہم تہران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متعین کردہ بعض ریڈ لائنز پر بات چیت کیلیے تاحال تیار نہیں ہے۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہم اس پر کام جاری رکھیں گے۔ تاہم صدر ٹرمپ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ جب چاہیں یہ کہہ سکتے ہیں کہ سفارتکاری اپنے فطری انجام کو پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بات کی نوبت نہیں آئے گی، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر ایسا ہوا تو یہ صدر پر منحصر ہے۔
جے ڈی وینس نے اپنے انٹرویو میں ریڈ لائنز کی وضاحت کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ نائب امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس لحاظ سے بات چیت اچھی رہی۔ طے یہ ہوا ہے کہ دونوں فریق ممکنہ معاہدے کے مسودے پر کام کریں گے اور اس کا تبادلہ ہونے پر مذاکرات کے اگلے مرحلے کو طے کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔