امریکی کانگریس میں مسلم مخالف بیان پر ہنگامہ، رکن کے استعفے کا مطالبہ تیز
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
امریکا میں فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس Randy Fine کی سوشل میڈیا پوسٹ پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے ایک سوشل میڈیا پیغام میں مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے جسے صارفین نے نفرت انگیز اور غیر انسانی قرار دیا۔ یہ بیان منظر عام پر آتے ہی مختلف ریاستوں میں مسلم کمیونٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے احتجاج شروع ہوگیا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق متعدد شہری حقوق گروپوں نے نہ صرف اس بیان کی مذمت کی بلکہ فوری استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔ واشنگٹن میں قائم تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے ایوان نمائندگان کی قیادت سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور واضح مؤقف اختیار کرے۔
تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے بیانات معاشرے میں نفرت اور تقسیم کو ہوا دیتے ہیں اور مسلم شہریوں کے لیے عدم تحفظ کا باعث بنتے ہیں۔
کیلیفورنیا کے گورنر Gavin Newsom نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے خیالات امریکی اقدار کے منافی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کرسکتا ہے کیونکہ کانگریس کے اندر اور باہر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
دوسری جانب رکن کانگریس نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ تنقید سے خوفزدہ نہیں اور اپنے خیالات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔