ایران امریکا مذاکرات میں مثبت پیشرفت، رہنما اصولوں پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں دونوں فریقین ایک ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے چند رہنما اصولوں پر وسیع اتفاق کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو جنیوا میں تقریباً چار گھنٹے جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوا، مذاکرات اومان کے سفیر کی جنیوا میں واقع رہائش گاہ پر ہوئے جہاں دونوں ممالک کے وفود نے اومانی ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا۔
عباس عراقچی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آخرکار ہم رہنما اصولوں کے ایک مجموعے پر وسیع اتفاق تک پہنچ گئے ہیں جن کی بنیاد پر ہم آگے بڑھیں گے اور ممکنہ معاہدے کے متن پر کام شروع کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ تیسرے دور کی بات چیت کی تاریخ تاحال طے نہیں ہوئی کیونکہ دونوں جانب سے پہلے مجوزہ مسودات تیار کیے جائیں گے پھر ان کا تبادلہ کر کے اگلی ملاقات کا وقت مقرر کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔