بھارت ہائی آلٹیٹیوڈ ہیلی کاپٹر بنائے گا، ایمانوئل میکرون سے ملاقات کے بعد نریندر مودی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اور فرانس کے تعلقات منفرد نوعیت کے ہیں اور فرانس بھارت کے قدیم ترین اسٹریٹجک شراکت داروں میں شامل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے تین روزہ دورہ بھارت کے موقع پر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت اور فرانس کی شراکت داری کی کوئی حد نہیں۔ دونوں لیڈروں کے درمیان فری ٹریڈ معاہدے، اسٹریٹجک تعاون اور ہائی آلٹیٹیوڈ ہیلی کاپٹر منصوبے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ منگل کو ممبئی ایئرپورٹ پر میکرون کا استقبال مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس اور گورنر آچاریہ دیوورَت نے کیا۔ بعد ازاں وزیراعظم مودی نے گرمجوشی سے ان کا خیرمقدم کیا۔ دونوں لیڈروں نے کرناٹک کے ویمگل میں ٹاٹا ایئربس کے ایچ-125 لائٹ یوٹیلٹی ہیلی کاپٹر کی فائنل اسمبلی لائن کا ورچوئل افتتاح بھی کیا اور مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت اور فرانس کے تعلقات منفرد نوعیت کے ہیں اور فرانس بھارت کے قدیم ترین اسٹریٹجک شراکت داروں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر میکرون کے ساتھ مل کر اس تعلق کو نئی گہرائی اور مضبوطی دی گئی ہے۔ اب دونوں ممالک اپنے رشتے کو "خصوصی عالمی اسٹریٹجک شراکت داری" کی سطح تک لے جا رہے ہیں، جو نہ صرف دوطرفہ مفاد بلکہ عالمی استحکام اور ترقی کے لئے بھی اہم ہے۔ بھارت کے وزیراعظم نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک مل کر بھارت میں ایسا ہائی آلٹیٹیوڈ ہیلی کاپٹر تیار کریں گے جو ماؤنٹ ایورسٹ جیسی بلندی پر بھی پرواز کر سکے گا۔ یہ ہیلی کاپٹر بھارت میں تیار ہوگا اور اسے عالمی منڈی میں برآمد بھی کیا جائے گا، جس سے دفاعی اور ایوی ایشن شعبے میں ملک کی خود کفالت کو تقویت ملے گی۔
انہوں نے بتایا کہ 2026ء بھارت اور یورپ کے تعلقات کے لئے اہم سال ثابت ہو رہا ہے۔ حال ہی میں بھارت اور یورپی یونین کے درمیان ایک جامع اور پُرعزم فری ٹریڈ ایگریمنٹ طے پایا ہے، جس سے بھارت-فرانس تعاون کو نئی رفتار ملے گی۔ صحت کے شعبے میں اے آئی کے لئے انڈو-فرینچ سینٹر، ڈیجیٹل سائنس و ٹیکنالوجی سینٹر اور ایئروناٹکس میں اسکل ڈیولپمنٹ کے لئے نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس قائم کیے جائیں گے۔ نریندر مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی غیر یقینی حالات میں بھارت اور فرانس کی شراکت داری استحکام کی مضبوط طاقت بن کر ابھر رہی ہے اور آنے والے وقت میں یہ تعلقات مزید وسعت اختیار کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارت اور فرانس ہیلی کاپٹر نے کہا کہ بھارت کے کے لئے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔