امریکا اور قازقستان کے درمیان معدنیات کے شعبے میں 1.1 ارب ڈالر کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
آستانہ (ویب ڈیسک) قازقستان اور امریکا کے درمیان اہم معدنیات کے شعبے میں 1.1 ارب امریکی ڈالر مالیت کے اسٹریٹجک سرمایہ کاری معاہدے پر دستخط کر دیئے گئے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سمرق قازینا فنڈ کی ذیلی کمپنی تاو کین سمرق اور امریکی کمپنی قفقاز کیپٹل گروپ ایل ایل سی (کوو کیپٹل) کے درمیان معاہدے پر دستخط کئے گئے، سمرق قازینا کی پریس سروس کے مطابق ان دستاویزات میں سیل اینڈ پرچیز ایگریمنٹ (ایس پی اے) اور شیئر ہولڈرز ایگریمنٹ شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دستخطی تقریب میں سمرق قازینا کے چیف ایگزیکٹو نورلان ژاکوپوف بھی موجود تھے، اس منصوبے کے تحت قازقستان میں نارتھ کاتپار اور اپر کائر اکتی کے ذخائر کی بنیاد پر ٹنگسٹن کی گہری پراسیسنگ کے لئے ایک ہائی ٹیک پلانٹ قائم کیا جائے گا جس سے تقریباً 2 ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
کوو کیپٹل منصوبے میں کم از کم 1.
منصوبے پر عمل درآمد کو عالمی اہم معدنیات کی سپلائی چین میں قازقستان کے کردار کو مضبوط بنانے، خام مال کی پراسیسنگ کو فروغ دینے اور صنعتی شعبے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔