سی ڈی اے اور نیشنل پریس کلب کے زیراہتمام شجر کاری مہم، ماحول دوست درخت لگائے گئے
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو کلین اینڈ گرین شہر بنانے کے لیے سی ڈی اے اور نیشنل پریس کلب نے موسم بہار شجرکاری مہم 2026 کا بھرپور انعقاد کیا۔
چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا، صدر پی ایف یو جے افضل بٹ، سیکریٹری نیشنل پریس کلب نیئر علی، فنانس سیکریٹری نیشنل پریس کلب وقار عباسی اور گورننگ باڈی کے ممبران سمیت صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا، نیشنل پریس کلب کے عہدیدداران، گورننگ باڈی کے ممبران سمیت صحافیوں نے شجرکاری مہم کے تحت نیشنل پریس کلب کے بالمقابل گراؤنڈ میں ماحول دوست درخت لگائے۔
اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شجرکاری مہم میں حصہ لینے والے پریس کلب کی انتظامیہ، گورننگ باڈی کے ممبران اور صحافیوں کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موسم بہار شجرکاری مہم کے تحت مقامی، پھلدار اور سایہ دار درختوں کو لگایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں برس شجرکاری مہم کے تحت شہر بھر میں 10 لاکھ ماحول دوست درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے نے کہاکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شجرکاری مہم میں جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں دارالحکومت اسلام آباد میں درختوں کی باقاعدہ ڈیجیٹل شجر شماری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ لگائے گئے درختوں کی بہتر نگہداشت کیلئے کیو آر کوڈ لگائے جارہے ہیں۔ اسی طرح کیو آر کوڈ کے ذریعے درختوں کے بوٹینیکل نام، مقام اور لگانے والے ادارے و افراد کی تفصیلات بھی محفوظ کی جائیں گی۔
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہاکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے قدرتی حسن کو برقرار رکھنے کیلئے مارگلہ نیشنل ہلز پر سیڈ بالز پھینکنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
انہوں نے کہاکہ اسلام آباد شہر میں شہریوں اور صحافیوں کیلئے خصوصی ماحول دوست الیکٹرک بسوں کے روٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔ ان ماحول دوست الیکٹرک بسوں کیلئے جدید ڈیجیٹل بس اسٹاپس بھی قائم کئے جا رہے ہیں۔
چیئرمین سی ڈی اے نے کہاکہ شجرکاری مہم کو کامیاب بنانے کیلئے ہم سب کو ملکر اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ ماحولیاتی تحفظ کیلئے ہمارے ساتھ ساتھ شہریوں اور سکولوں کے بچوں کو بھی اسمیں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔
صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے کہاکہ ہم چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کے انتہائی مشکور ہیں جنہوں نے وقت نکال کر صحافیوں کیساتھ شجرکاری مہم میں حصہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ شجرکاری مہم کے تحت نیشنل پریس کلب سمیت تمام صحافی برادری سی ڈی اے کیساتھ اس مہم میں بھرپور حصہ لیں گے۔
انہوں نے کہاکہ ہمارا مقصد صرف تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ ہمیں شجرکاری جسے مثبت اقدامات میں بھی بھرپور حصہ لینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئیے! تمام صحافی برادری اپنا کردار ادا کرتے ہوئے شہر میں پودے لگانے کو ایک فیشن بنا دیں۔
سیکریٹری نیشنل پریس کلب نیئر علی نے کہاکہ نیشنل پریس کلب سمیت تمام عہدیداران اور صحافی برادری اس خصوصی مہم میں اپنا بھرپور کردار ادا کرےگی۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب شجرکاری مہم کے تحت لگائے گئے درختوں کی نگہداشت کو بھی یقینی بنائے گے۔
سیکریٹری فنانس وقار عباسی نے کہاکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے پیپر ملبری کو ہٹا کر ماحول دوست درخت لگائے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام صحافیوں کو چاہیے کہ شجرکاری مہم 2026 میں سی ڈی اے کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
انہوں نے مزید کہاکہ شجرکاری مہم 2026 کو فیشن بنا کر فروغ دیں تاکہ عوام میں ماحولیاتی آگاہی پیدا ہوسکے۔
رواں برس موسم بہار شجرکاری مہم کا مقصد اسلام آباد شہر کے گرین کور اور خوبصورتی میں اضافہ کے ساتھ ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سی ڈی اے شجر کاری مہم نیشنل پریس کلب وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سی ڈی اے شجر کاری مہم نیشنل پریس کلب وی نیوز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد شجرکاری مہم کے تحت محمد علی رندھاوا چیئرمین سی ڈی اے ماحول دوست درخت انہوں نے کہا کہ نیشنل پریس کلب انہوں نے کہاکہ کہ شجرکاری مہم
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔