سی ڈی اور نیشنل پریس کلب کے تحت شجر کاری مہم کا آغاز ،پودے لگائے گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 17 February, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس ) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو کلین اینڈ گرین شہر بنانے کیلئے سی ڈی اے اور نیشنل پریس کلب نے موسم بہار شجرکاری مہم 2026 کا بھرپور انعقاد کیا۔ چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا، صدر پی ایف یو جے افضل بٹ، سیکرٹری جنرل نیشنل پریس کلب نیئر علی، فنانس سیکرٹری نیشنل پریس کلب وقار عباسی اور گورننگ باڈی کے ممبران سمیت صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا، نیشنل پریس کلب کے عہدیدداران، گورننگ باڈی کے ممبران سمیت صحافیوں نے شجرکاری مہم کے تحت نیشنل پریس کلب کے بالمقابل گرانڈ میں ماحول دوست درخت لگائے۔اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شجرکاری مہم میں حصہ لینے والے پریس کلب کی انتظامیہ، گورننگ باڈی کے ممبران اور صحافیوں کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موسم بہار شجرکاری مہم کے تحت مقامی، پھلدار اور سایہ دار درختوں کو لگایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں برس شجرکاری مہم کے تحت شہر بھر میں 10 لاکھ ماحول دوست درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شجرکاری مہم میں جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں دارالحکومت اسلام آباد میں درختوں کی باقاعدہ ڈیجیٹل شجر شماری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لگائے گئے درختوں کی بہتر نگہداشت کیلئے کیو آر کوڈ لگائے جارہے ہیں۔ اسی طرح کیو آر کوڈ کے ذریعے درختوں کے بوٹینیکل نام، مقام اور لگانے والے ادارے و افراد کی تفصیلات بھی محفوظ کی جائینگی۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے قدرتی حسن کو برقرار رکھنے کیلئے مارگلہ نیشنل ہلز پر سیڈ بالز پھینکنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد شہر میں شہریوں اور صحافیوں کیلئے خصوصی ماحول دوست الیکٹرک بسوں کے روٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔ ان ماحول دوست الیکٹرک بسوں کیلئے جدید ڈیجیٹل بس اسٹاپس بھی قائم کئے جا رہے ہیں۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ شجرکاری مہم کو کامیاب بنانے کیلئے ہم سب کو ملکر اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کیلئے ہمارے ساتھ ساتھ شہریوں اور سکولوں کے بچوں کو بھی اسمیں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے کہا کہ ہم چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کے انتہائی مشکور ہیں جنہوں نے وقت نکال کر صحافیوں کیساتھ شجرکاری مہم میں حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ شجرکاری مہم کے تحت نیشنل پریس کلب سمیت تمام صحافی برادری سی ڈی اے کیساتھ اس مہم میں بھرپور حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ ہمیں شجرکاری جسے مثبت اقدامات میں بھی بھرپور حصہ لینا چائیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئیے!! تمام صحافی برادری اپنا کردار ادا کرتے ہوئے شہر میں پودے لگانے کو ایک فیشن بنا دیں۔سیکٹریری جنرل نیشنل پریس کلب نیئر علی نے کہا کہ نیشنل پریس کلب سمیت تمام عہدیداران اور صحافی برادری اس خصوصی مہم میں اپنا بھرپور کردار ادا کریگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب شجرکاری مہم کے تحت لگائے گئے درختوں کی نگہداشت کو بھی یقینی بنائے گے۔

سیکٹریری فنانس وقار عباسی نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے پیپر ملبری کو ہٹا کر ماحول دوست درخت لگائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام صحافیوں کو چائیے کہ شجرکاری مہم 2026 میں سی ڈی اے کیساتھ بھرپور تعاون کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شجرکاری مہم 2026 کو فیشن بنا کر فروغ دیں تاکہ عوام میں ماحولیاتی آگاہی پیدا ہوسکے۔ رواں برس موسم بہار شجرکاری مہم کا مقصد اسلام آباد شہر کے گرین کور اور خوبصورتی میں اضافہ کے ساتھ ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربی این پی سربراہ طارق رحمان حلف اٹھا کر بنگلا دیش کے وزیر اعظم بن گئے بی این پی سربراہ طارق رحمان حلف اٹھا کر بنگلا دیش کے وزیر اعظم بن گئے بی ایل اے علیحدگی پسند نہیں سنگین دہشت گرد تنظیم ہے: امریکی جریدہ پاکستان نے دہشتگردی کو سٹریٹجک جیت میں بدلنے سے روک دیا: ترک جریدہ امریکا اور ایران پھر آمنے سامنے، جنیوا میں مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہیلتھ سروسز اکیڈمی کیس: ترجمان صدر مملکت کی وضاحت، افواہیں مسترد اسلام آباد میں موٹرسائیکلز پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا فیصلہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد شجرکاری مہم کے تحت نیشنل پریس کلب کے محمد علی رندھاوا چیئرمین سی ڈی اے انہوں نے کہا کہ کہ شجرکاری مہم ماحول دوست لگائے گئے کا آغاز

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی