data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دنیا کو درپیش عالمی بحرانوں کی بڑی وجہ غیر حل شدہ سیاسی تنازعات ہیں، جو صورتحال کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے سفارتکاری، بات چیت اور مکالمہ ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔

اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ’’پائیدار ترقی، عالمی امن و خوشحالی کا راستہ‘‘ کے موضوع پر خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پائیدار ترقی عدل و انصاف پر مبنی ہونی چاہیے، کیونکہ انصاف کے بغیر عالمی امن کا خواب حقیقت نہیں بن سکتا۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کا ہمسایہ دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کے نظام کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، جو پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی اور روزگار کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کو مزید مضبوط، بااختیار اور وسائل سے لیس بنانا ضروری ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب کے دوران پاکستان اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے درمیان تعاون کے معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی، جس کا مقصد عالمی سطح پر مشترکہ ترقی اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار