عوام کی خیر خواہ یہ سیاسی حکومتیں
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر برائے توانائی نے کہا ہے کہ حکومت نے نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی کے ذریعے ساڑھے تین کروڑ غریبوں کو بچایا ہے اور صرف چار لاکھ 66 ہزار کے قریب صارفین نیٹ میٹرنگ سے فائدہ اٹھا رہے تھے اور پرانے نرخوں پر نیٹ میٹرنگ کے باعث باقی غریب صارفین پر سالانہ دو سو ارب سے زیادہ کا بوجھ پڑ رہا تھا۔ نئی نیٹ میٹرنگ کا مقصد غریب عوام کو تحفظ دینا ہے۔ اس بیان سے لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ملک کے عوام پرکس قدر مہربان ہے اور اس نے نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی سے عوام کو حکومتی احسانوں تلے دبا دیا ہے۔
موجودہ ہی نہیں ماضی کی بھی تمام حکومتیں عوام کی اتنی ہی خیر خواہ رہی ہیں، جتنی موجودہ (ن) لیگی حکومت ہے جس کے سربراہ عوام کے وسیع تر مفاد کے لیے آئے دن غیر ملکی دوروں پر رہتے اور حکمرانوں کا رویہ اور طرز زندگی محسوس ہی نہیں ہونے دیتا کہ وہ اربوں ڈالر کے مقروض ملک کے سربراہ ہیں جنھوں نے ہماری آنے والی نسل کو مقروض در مقروض کر دیا ہے ،عوام اپنی محنت کی کمائی سے غیر ملکی قرض مہنگائی سہہ کر بھی ادا کر رہی ہے مگر قرض ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمن نے کہا ہے کہ نیپرا قواعد صاف اور سستی بجلی دینے والے شہریوں کو سزا دینے کے مترادف ہیں۔ نیپرا پر اعتماد کرکے سولرائزیشن میں سرمایہ لگانے والوں کو شدید مالی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ پی پی رہنما ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ سولر سسٹم لگا کر حکومت کو بجلی دینے والوں کے ساتھ فراڈ ہوگیا ہے۔ سابق (ن) لیگی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کا کہنا ہے کہ اب سولر صارفین کم معاوضہ وصول کرتے ہوئے مکمل قیمت ادا کریں گے اور چالیس روپے یونٹ بجلی خریدیں گے اورگیارہ روپے میں واپس حکومت کو دیں گے۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ سیٹھوں نے بجلی سستی کرنے کے لیے گھریلو صارفین پر دو طرفہ حملہ کیا ہے، ایک طرف حکومت نے بجلی کے نرخ بڑھا دیے ہیں اور دوسری طرف سولر نیٹ میٹرنگ ختم کر دی ہے اور سولر لگانے والوں کو دھوکا دیا گیا ہے جس سے انھیں مالی نقصان اور حکومت کو فائدہ ہوگا۔ ملک کی تاجر برادری نے بھی حکومت کی نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی پر تبدیلی پر سخت ردعمل دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ آئی پی پیزکا پیٹ پالنے کے لیے اتنی سخت پالیسیاں نہ بنائی جائیں، تاجر بہت مشکل سے گزر رہے ہیں۔ تاجروں نے حکومت سے نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی پر نظر ثانی کا بھی مطالبہ اور نئی پالیسی پر کڑی تنقید کی ہے۔
وفاقی وزیر توانائی کو یہ خوش فہمی بھی ہے کہ حکومت کی نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی کے بعد بھی تاجر نئے نرخوں پر بھی منافع بخش سرمایہ کاری جاری رکھیں گے اور حکومت نے تو دو سو یونٹ تک کے گھریلو صارفین کو بھی رعایت دی ہے اور غریب صارفین کو مزید بوجھ سے بچایا ہے جو ان پر دو سو ارب تھا اور پانچ سو ارب روپے تک جانے کا امکان تھا جو عوامی مفاد کا حکومت کا ایک اچھا فیصلہ ہے جس پر حکومت کو فخر ہے اور حکومت نے وسیع تر مفاد میں یہ جرأت مندانہ اصلاحات کی ہیں۔ موجودہ حکومت نے آئی پی پیز سے معاہدوں پر نظرثانی کرا کر ملک کو اربوں روپے کے نقصان سے بچایا ہے۔
ماضی میں آئی پی پیز سے معاہدے بھی ملک میں حکمرانی کرنے والی ماضی کی سیاسی حکومتوں نے کیے تھے جس کے نتیجے میں حکومت کو تو نہیں بلکہ بجلی صارفین کو ہر سطح پر مالی نقصان ہو رہا تھا کیونکہ ملک کو نقصان اور آئی پی پیز کو زبردست مالی فائدہ ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں سے ہوا تھا۔ جو آئی پی پیز حکومت کو بجلی بھی نہیں دے رہے تھے حکومتیں انھیں بھی ماہانہ ڈالروں میں ادائیگیاں کر رہی تھیں اور دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔ حکومتی فیصلوں سے صارفین سب سے زیادہ متاثر اور سیاسی پشت پناہی کے حامل یہ آئی پی پیز سالوں ماہانہ کروڑوں روپے مفت میں کماتے رہے اور اب بھی کچھ کم مگر کما ضرور رہے ہیں اور بجلی ازحد مہنگی خریدنے والے صارفین اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات، بجلی و گیس وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہے اور یہ تینوں حکومت کی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور ان تینوں اشیا کو مہنگا سے مہنگا کر کے ملک میں مہنگائی و بے روزگاری بڑھائی گئی ہے۔ بجلی کی کمی پوری کرنے کے لیے پہلے آئی پی پیزکو زبردست مالی فائدہ پہنچانے کے ساتھ (ن) لیگی حکومت نے نیٹ میٹرنگ پالیسی بنا کر سولرائزیشن کرکے اپنی ضرورت پوری اور اپنی بنائی ہوئی فاضل بجلی فروخت کرنے والوں نے سولروں کے ذریعے بجلی کی کمی دورکی جس کے صلے میں آئی پی پیز متاثر ہوئے کیونکہ ان کی بجلی کی ضرورت کم ہو رہی تھی تو انھوں نے حکومت پر نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی بنانے کے لیے سیاسی دباؤ بڑھایا جس پر سولر بجلی فروخت کرنے والے سوچ رہے ہیں کہ انھوں نے حکومت پر اعتماد کیوں کیا تھا۔
سیاسی رہنما بھی نئی پالیسی کو عوام سے دھوکا اور فراڈ قرار دے رہے ہیں جس سے حکومت کو بھی دھچکا ضرور لگے گا اور عوام میں حکومت کے خلاف بداعتمادی ضرور بڑھے گی۔ (ن) لیگ کی سابق حکومت میں ’’ قرض اتارو ملک سنوارو‘‘ پالیسی سے حکومت پر عوامی اعتماد پہلے ہی متاثر ہوا تھا اور نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی پر عوام کے اعتماد سے محروم (ن) لیگ کی وفاقی حکومت پر عوام آیندہ اعتماد نہیں کریں گے۔
پہلے ہر آنے والی حکومت پہلی حکومت کی پالیسی رد کرکے اپنی پالیسی نافذ کرتی تھی جس سے عالمی سطح پر ملکی ساکھ متاثر ہوتی تھی اور غیر ملکی سرمایہ کار یہاں سرمایہ نہیں لگاتے تھے کہ ہر حکومت کی پالیسی سے ان کا سرمایہ نہ ڈوب جائے۔ ملک سے صنعتیں مہنگی بجلی سے باہر منتقل ہو رہی ہیں اور صنعتکار شریف فیملی کی حکومت سے مایوس تھے اور اب نئی میٹرنگ پالیسی سے متوسط طبقہ بھی حکومت پر اعتماد نہیں کرے گا کہ یہ عوام کی نام نہاد خیر خواہ حکومت پھر پالیسی نہ بدل لے، اس لیے حکومت مزید ناقابل اعتبار ہو جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی آئی پی پیز پالیسی سے پالیسی پر حکومت کی حکومت نے حکومت کو حکومت پر رہے ہیں کے لیے ہے اور
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :