Express News:
2026-06-03@01:14:28 GMT

مشرقِ وسطیٰ، عالمی امن کی آزمائش

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک اور بڑا امریکی بحری بیڑہ تیزی سے ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انھوں نے ایک مرتبہ پھر ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق مذاکرات کے لیے میز پر آئے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں امریکا کا اگلا حملہ کہیں زیادہ شدید ہوگا، جب کہ روس اور چین کی قیادت نے دفاعی اتحاد کے تحت ایران اور وینز ویلا پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے طویل پریس کانفرنس میں دھمکی دی ہے کہ غزہ کی تعمیر نو سے قبل حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا ضروری ہے، حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ پر سیکیورٹی کنٹرول ہماری فوج کا رہے گا، تعمیر نو بھی نہیں ہونے دیں گے۔

 مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کے اس نازک ترین مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں طاقت، مفادات اور نظریات کی کشمکش کسی بھی لمحے ایک بڑے تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات، ایران کے خلاف کھلی عسکری دھمکیاں اور خطے میں امریکی بحری و فضائی قوت کی غیر معمولی نقل و حرکت نے عالمی سطح پر تشویش کو جنم دیا ہے۔ یہ صورتحال محض امریکا اور ایران کے درمیان دوطرفہ کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسے وسیع تر جغرافیائی اور سیاسی تصادم کا حصہ ہے جس میں عالمی طاقتیں، علاقائی اتحادی، توانائی کی منڈیاں اور کروڑوں انسانوں کی زندگیاں براہِ راست متاثر ہو سکتی ہیں۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب طاقتور ریاستیں مذاکرات کے بجائے دباؤ اور دھمکی کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بناتی ہیں تو اس کے نتائج ہمیشہ دور رس اور تباہ کن ہوتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا یہ اعلان کہ ایک اور بڑا امریکی بحری بیڑہ تیزی سے ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، دراصل عسکری طاقت کے اظہار کے ساتھ ساتھ نفسیاتی دباؤ کی ایک منظم کوشش بھی ہے۔ یو ایس ایس ابراہم لنکن جیسے جدید طیارہ بردار جہاز کی قیادت میں آنے والا بحری بیڑہ محض دفاعی ضرورت نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام ہے کہ امریکا خطے میں اپنی مرضی مسلط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اس نوعیت کا طاقت کا مظاہرہ واقعی امن کو فروغ دیتا ہے یا یہ عدم استحکام اور مزاحمت کو مزید ہوا دیتا ہے؟ عراق، افغانستان اور لیبیا کی مثالیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ عسکری قوت کے ذریعے وقتی کامیابیاں تو حاصل کی جا سکتی ہیں مگر پائیدار، امن اور استحکام کبھی بھی طاقت کے زور پر قائم نہیں ہو سکا۔

گزشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر کیا جانے والا امریکی حملہ، جسے آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کا نام دیا گیا، جدید جنگی حکمت عملی کی ایک نمایاں مثال تھا۔ بی2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں کی براہِ راست امریکا سے پرواز اور بنکر بسٹر بموں کا استعمال اس بات کی علامت تھا کہ امریکا ایران کے دفاعی حصار کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم اس کارروائی کے باوجود ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اس کے برعکس، متعدد عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے اس حملے کے بعد اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید مضبوط اور خفیہ بنایا۔ یہ حقیقت ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ عسکری حملے کسی ریاست کے سائنسی علم، تکنیکی مہارت اور قومی عزم کو ختم نہیں کر سکتے۔

ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ کہنا کہ دھمکیوں کے ماحول میں مذاکرات ممکن نہیں، سفارت کاری کے بنیادی اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔ کوئی بھی خود مختار ریاست اس بات پر آمادہ نہیں ہو سکتی کہ وہ دباؤ اور خوف کے سائے میں اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ کرے۔ ایران پہلے ہی سخت معاشی پابندیوں، تیل کی برآمدات میں کمی اور مالیاتی نظام پر دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں اگر اسے مزید عسکری دھمکیوں کے ذریعے مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی جائے تو یہ عمل مفاہمت کے بجائے تصادم کو جنم دے گا۔ سفارت کاری کا تقاضا یہ ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے تحفظات کو تسلیم کریں اور باہمی احترام کی بنیاد پر حل تلاش کریں۔

اس بحران کو صرف امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے طور پر دیکھنا زمینی حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ روس اور چین کی جانب سے ایران اور وینز ویلا کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان صف بندی تیزی سے واضح ہو رہی ہے۔ امریکا کی یکطرفہ پابندیوں اور معاہدوں سے دستبرداری نے کئی ممالک کو مجبور کیا ہے کہ وہ متبادل اتحاد اور شراکت داریوں کی طرف دیکھیں۔ اس بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں ایران اب محض ایک علاقائی کھلاڑی نہیں رہا بلکہ ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا ہے جس کے ساتھ بڑی طاقتیں اپنے اسٹرٹیجک مفادات جوڑ رہی ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی ممکنہ عسکری تصادم کو عالمی سطح پر پھیلنے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی اس کشیدہ فضا میں اسرائیل کی پالیسیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے یہ اعلان کہ غزہ کی تعمیر نو حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے سے مشروط ہوگی، دراصل اجتماعی سزا کے تصور کو فروغ دیتا ہے۔ غزہ کے لاکھوں شہری پہلے ہی شدید انسانی بحران کا شکار ہیں، جہاں خوراک، پانی، بجلی اور طبی سہولیات کی قلت روزمرہ کا مسئلہ بن چکی ہے۔ تعمیر نو کو سیاسی اور عسکری شرائط سے مشروط کرنا نہ صرف انسانی ہمدردی کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ رویہ خطے میں نفرت، غصے اور انتقام کے جذبات کو مزید گہرا کرتا ہے، جو کسی بھی امن عمل کے لیے زہر قاتل ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکا کی جانب سے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت اور ایران کے خلاف جارحانہ حکمت عملی دراصل ایک ہی اسٹرٹیجک سوچ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد خطے میں طاقت کا توازن اپنے حق میں رکھنا ہے۔ تاہم تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے عدم توازن نے ہمیشہ مزاحمت کو جنم دیا ہے۔ عراق کی جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، داعش جیسے انتہا پسند گروہوں کا ابھار، اور افغانستان میں دو دہائیوں کی جنگ کے باوجود عدم استحکام اس بات کا ثبوت ہیں کہ عسکری بالادستی طویل المدتی امن کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ امریکا کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کا حل بمباری اور بحری بیڑوں کی تعیناتی میں نہیں بلکہ جامع سیاسی مکالمے میں مضمر ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی بڑی جنگ کے اثرات فوری طور پر عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، توانائی کی ترسیل میں رکاوٹیں، عالمی منڈیوں میں بے یقینی اور ترقی پذیر ممالک پر مالی دباؤ وہ عوامل ہیں جو پوری دنیا کو متاثر کریں گے۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی معاشی چیلنجز اور توانائی کے مسائل سے دوچار ہیں، ایسی کسی بھی جنگ کے نتیجے میں مزید مشکلات کا سامنا کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کے لیے یہ لمحہ غیر جانبدار تماشائی بنے رہنے کا نہیں بلکہ فعال کردار ادا کرنے کا ہے۔

اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ اس کشیدہ صورتحال میں مؤثر سفارتی کردار ادا کریں، اگر عالمی نظام واقعی قانون، انصاف اور اجتماعی سلامتی کے اصولوں پر قائم ہے تو پھر اسے طاقتور ممالک کو بھی انھی اصولوں کا پابند بنانا ہوگا۔ یکطرفہ حملے، معاشی پابندیاں اور عسکری دھمکیاں عالمی نظام کو کمزور کرتی ہیں اور یہ پیغام دیتی ہیں کہ قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف عالمی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے بلکہ مستقبل میں مزید تنازعات کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک فیصلہ کن دوراہے پر کھڑا ہے، اگر عالمی طاقتیں دانشمندی، تحمل اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرتی ہیں تو اب بھی تباہی کو ٹالا جا سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کی سیاست کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے سنگین ہوں گے۔ امریکا، ایران، اسرائیل اور دیگر عالمی و علاقائی قوتوں کے لیے یہ لمحہ خود احتسابی کا ہے۔ تاریخ ان فیصلوں کو محفوظ رکھتی ہے اور آنے والی نسلیں انھی فیصلوں کی بنیاد پر آج کے رہنماؤں کو یاد رکھیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی جانب سے حکمت عملی نہیں بلکہ ایران کے ایران کی کو مزید نہیں ہو کسی بھی کیا ہے کہ ایک جنگ کے کے لیے اس بات

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان