Express News:
2026-07-24@01:46:39 GMT

مشرقِ وسطیٰ، عالمی امن کی آزمائش

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک اور بڑا امریکی بحری بیڑہ تیزی سے ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انھوں نے ایک مرتبہ پھر ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق مذاکرات کے لیے میز پر آئے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں امریکا کا اگلا حملہ کہیں زیادہ شدید ہوگا، جب کہ روس اور چین کی قیادت نے دفاعی اتحاد کے تحت ایران اور وینز ویلا پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے طویل پریس کانفرنس میں دھمکی دی ہے کہ غزہ کی تعمیر نو سے قبل حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا ضروری ہے، حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ پر سیکیورٹی کنٹرول ہماری فوج کا رہے گا، تعمیر نو بھی نہیں ہونے دیں گے۔

 مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کے اس نازک ترین مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں طاقت، مفادات اور نظریات کی کشمکش کسی بھی لمحے ایک بڑے تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات، ایران کے خلاف کھلی عسکری دھمکیاں اور خطے میں امریکی بحری و فضائی قوت کی غیر معمولی نقل و حرکت نے عالمی سطح پر تشویش کو جنم دیا ہے۔ یہ صورتحال محض امریکا اور ایران کے درمیان دوطرفہ کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسے وسیع تر جغرافیائی اور سیاسی تصادم کا حصہ ہے جس میں عالمی طاقتیں، علاقائی اتحادی، توانائی کی منڈیاں اور کروڑوں انسانوں کی زندگیاں براہِ راست متاثر ہو سکتی ہیں۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب طاقتور ریاستیں مذاکرات کے بجائے دباؤ اور دھمکی کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بناتی ہیں تو اس کے نتائج ہمیشہ دور رس اور تباہ کن ہوتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا یہ اعلان کہ ایک اور بڑا امریکی بحری بیڑہ تیزی سے ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، دراصل عسکری طاقت کے اظہار کے ساتھ ساتھ نفسیاتی دباؤ کی ایک منظم کوشش بھی ہے۔ یو ایس ایس ابراہم لنکن جیسے جدید طیارہ بردار جہاز کی قیادت میں آنے والا بحری بیڑہ محض دفاعی ضرورت نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام ہے کہ امریکا خطے میں اپنی مرضی مسلط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اس نوعیت کا طاقت کا مظاہرہ واقعی امن کو فروغ دیتا ہے یا یہ عدم استحکام اور مزاحمت کو مزید ہوا دیتا ہے؟ عراق، افغانستان اور لیبیا کی مثالیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ عسکری قوت کے ذریعے وقتی کامیابیاں تو حاصل کی جا سکتی ہیں مگر پائیدار، امن اور استحکام کبھی بھی طاقت کے زور پر قائم نہیں ہو سکا۔

گزشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر کیا جانے والا امریکی حملہ، جسے آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کا نام دیا گیا، جدید جنگی حکمت عملی کی ایک نمایاں مثال تھا۔ بی2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں کی براہِ راست امریکا سے پرواز اور بنکر بسٹر بموں کا استعمال اس بات کی علامت تھا کہ امریکا ایران کے دفاعی حصار کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم اس کارروائی کے باوجود ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اس کے برعکس، متعدد عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے اس حملے کے بعد اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید مضبوط اور خفیہ بنایا۔ یہ حقیقت ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ عسکری حملے کسی ریاست کے سائنسی علم، تکنیکی مہارت اور قومی عزم کو ختم نہیں کر سکتے۔

ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ کہنا کہ دھمکیوں کے ماحول میں مذاکرات ممکن نہیں، سفارت کاری کے بنیادی اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔ کوئی بھی خود مختار ریاست اس بات پر آمادہ نہیں ہو سکتی کہ وہ دباؤ اور خوف کے سائے میں اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ کرے۔ ایران پہلے ہی سخت معاشی پابندیوں، تیل کی برآمدات میں کمی اور مالیاتی نظام پر دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں اگر اسے مزید عسکری دھمکیوں کے ذریعے مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی جائے تو یہ عمل مفاہمت کے بجائے تصادم کو جنم دے گا۔ سفارت کاری کا تقاضا یہ ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے تحفظات کو تسلیم کریں اور باہمی احترام کی بنیاد پر حل تلاش کریں۔

اس بحران کو صرف امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے طور پر دیکھنا زمینی حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ روس اور چین کی جانب سے ایران اور وینز ویلا کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان صف بندی تیزی سے واضح ہو رہی ہے۔ امریکا کی یکطرفہ پابندیوں اور معاہدوں سے دستبرداری نے کئی ممالک کو مجبور کیا ہے کہ وہ متبادل اتحاد اور شراکت داریوں کی طرف دیکھیں۔ اس بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں ایران اب محض ایک علاقائی کھلاڑی نہیں رہا بلکہ ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا ہے جس کے ساتھ بڑی طاقتیں اپنے اسٹرٹیجک مفادات جوڑ رہی ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی ممکنہ عسکری تصادم کو عالمی سطح پر پھیلنے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی اس کشیدہ فضا میں اسرائیل کی پالیسیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے یہ اعلان کہ غزہ کی تعمیر نو حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے سے مشروط ہوگی، دراصل اجتماعی سزا کے تصور کو فروغ دیتا ہے۔ غزہ کے لاکھوں شہری پہلے ہی شدید انسانی بحران کا شکار ہیں، جہاں خوراک، پانی، بجلی اور طبی سہولیات کی قلت روزمرہ کا مسئلہ بن چکی ہے۔ تعمیر نو کو سیاسی اور عسکری شرائط سے مشروط کرنا نہ صرف انسانی ہمدردی کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ رویہ خطے میں نفرت، غصے اور انتقام کے جذبات کو مزید گہرا کرتا ہے، جو کسی بھی امن عمل کے لیے زہر قاتل ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکا کی جانب سے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت اور ایران کے خلاف جارحانہ حکمت عملی دراصل ایک ہی اسٹرٹیجک سوچ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد خطے میں طاقت کا توازن اپنے حق میں رکھنا ہے۔ تاہم تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے عدم توازن نے ہمیشہ مزاحمت کو جنم دیا ہے۔ عراق کی جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، داعش جیسے انتہا پسند گروہوں کا ابھار، اور افغانستان میں دو دہائیوں کی جنگ کے باوجود عدم استحکام اس بات کا ثبوت ہیں کہ عسکری بالادستی طویل المدتی امن کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ امریکا کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کا حل بمباری اور بحری بیڑوں کی تعیناتی میں نہیں بلکہ جامع سیاسی مکالمے میں مضمر ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی بڑی جنگ کے اثرات فوری طور پر عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، توانائی کی ترسیل میں رکاوٹیں، عالمی منڈیوں میں بے یقینی اور ترقی پذیر ممالک پر مالی دباؤ وہ عوامل ہیں جو پوری دنیا کو متاثر کریں گے۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی معاشی چیلنجز اور توانائی کے مسائل سے دوچار ہیں، ایسی کسی بھی جنگ کے نتیجے میں مزید مشکلات کا سامنا کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کے لیے یہ لمحہ غیر جانبدار تماشائی بنے رہنے کا نہیں بلکہ فعال کردار ادا کرنے کا ہے۔

اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ اس کشیدہ صورتحال میں مؤثر سفارتی کردار ادا کریں، اگر عالمی نظام واقعی قانون، انصاف اور اجتماعی سلامتی کے اصولوں پر قائم ہے تو پھر اسے طاقتور ممالک کو بھی انھی اصولوں کا پابند بنانا ہوگا۔ یکطرفہ حملے، معاشی پابندیاں اور عسکری دھمکیاں عالمی نظام کو کمزور کرتی ہیں اور یہ پیغام دیتی ہیں کہ قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف عالمی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے بلکہ مستقبل میں مزید تنازعات کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک فیصلہ کن دوراہے پر کھڑا ہے، اگر عالمی طاقتیں دانشمندی، تحمل اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرتی ہیں تو اب بھی تباہی کو ٹالا جا سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کی سیاست کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے سنگین ہوں گے۔ امریکا، ایران، اسرائیل اور دیگر عالمی و علاقائی قوتوں کے لیے یہ لمحہ خود احتسابی کا ہے۔ تاریخ ان فیصلوں کو محفوظ رکھتی ہے اور آنے والی نسلیں انھی فیصلوں کی بنیاد پر آج کے رہنماؤں کو یاد رکھیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی جانب سے حکمت عملی نہیں بلکہ ایران کے ایران کی کو مزید نہیں ہو کسی بھی کیا ہے کہ ایک جنگ کے کے لیے اس بات

پڑھیں:

امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام

امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔

U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026

سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار