ملتان، بلوچ ہاوس میں سانحہ ترلائی کلاں اسلام آباد کے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
علامہ سید مجاہد عباس گردیزی نے کہا کہ شہید ہونے والے تمام مومنین کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے، ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت کریک ڈاون کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ملتان کے علاقے بلوچ ہاوس سوتری وٹ میں حاجی طاہر حسین بلوچ نمبردار کی رہائش گاہ پر ترلائی کلاں اسلام آباد میں شہید ہونے والے نمازیوں کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ تقریب میں مرکزی صدر عزاداری امام حسین جنوبی پنجاب مہر شاہد عباس چاون، علامہ سید مجاہد عباس گردیزی، مولانا سید امیر حسین شاہ نقوی، لائسنس دار سید حسن شاہ شمسی، رئیس خان بلوچ، ممتاز حسین، ظہور حسین، محمد علی بلوچ اور حیدر زمان بلوچ سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی، مرکزی صدر مہر شاہد عباس چاون نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے شہدا کے لیے اعلان کردہ پیکج میں مزید اضافہ کیا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ رمضان المبارک اور محرم الحرام کے دوران ماتمی جلوسوں، مجالس عزا، مساجد اور امام بارگاہوں کی سکیورٹی کو مزید سخت کیا جائے۔ علامہ سید مجاہد عباس گردیزی نے کہا کہ شہید ہونے والے تمام مومنین کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت کریک ڈاون کا مطالبہ بھی کیا۔ مزید انہوں نے شہید عون عباس کو ستارہ امتیاز دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی قربانی کا اعتراف کرے، جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر مزید جانی نقصان کو روکا۔ انہوں نے مومنین اور علما کرام، خصوصا مذہبی رہنماوں کی سکیورٹی کے موثر انتظامات پر زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کیا جائے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز