تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا پارلیمنٹ ہائوس سے دھرنا ختم
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
اسلام آباد : ملک میں ماہِ رمضان کا آغاز ہونے کے باعث تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی جانب سے پارلیمنٹ ہائوس سے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ پارلیمنٹ میں دیا گیا دھرنا ہم ختم کرنے جا رہے ہیں۔
ممبران اسمبلی نے بانی کی صحت کو لے کر احتجاج کیا، ہم صحت کے معاملے کو عدالت لے کر گئے، ہمارا مطالبہ یہی تھا کہ ذاتی معالجین کو ملایا جائے، ہم نے دیکھا کہ پارلیمنٹ کو جیل خانہ بنا دیا گیا تھا، ہم پارلیمنٹ سے باہر جا رہے تھے کہ راستے بند کر دیے گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ احتجاج میں ہم پر بہت سی بندشیں لگا دی گئیں، عمران خان کی آنکھ سے متعلق خبر آئی تو محمود اچکزئی نے کہا کہ ہم بھوک ہڑتال کریں گے، ہم نے اسی لیے احتجاج کیا کہ ذاتی معالجین کو سابق وزیراعظم تک رسائی دی جائے۔
اس حوالے سے ان کی بہنوں کے جذبات درست ہیں ان کو ملاقات کی اجازت دی جائے، عمران خان کی آنکھوں کی بہتری کی ہمیں امید ہے جس کے لیے انہیں شفاءانٹرنیشنل منتقل کیا جائے، اب کچھ بہتری ہوئی ہے لیکن ابہام ابھی باقی ہے۔
عمران خان نے ڈاکٹر فیصل سلطان کو ملنے کا پیغام بھیجا ہے، اب ماہ رمضان شروع ہوگیا اس لیے دھرنا ختم کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔