پاک بھارت میچ پر عالمی دباؤ: سری لنکا کے بعد اماراتی کرکٹ بورڈ کی بھی پی سی بی سے اپیل
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
سری لنکا کے بعد اماراتی کرکٹ بورڈ نے بھی پاکستان سے بھارت کے خلاف 15 فروری کا میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کردی۔ذرائع کے مطابق اماراتی کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کیا ہے اور بھارت کے خلاف 15 فروری کا میچ نہ کھیلنےکے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔ذرائع کے مطابق اماراتی کرکٹ بورڈ نے کرکٹ کے بہترین مفاد میں فیصلہ کرنے کی سفارش کی ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل سری لنکا نے بھی پاکستان سے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیل کی تھی۔سری لنکا کرکٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے درخواست کی تھی کہ وہ آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ میں روایتی حریف بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔رپورٹ کے مطابق سری لنکا کرکٹ نے باقاعدہ طور پر پی سی بی کو خط لکھا جس میں نشاندہی کی گئی کہ دونوں روایتی حریفوں کے درمیان 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول اس ہائی پروفائل میچ کی منسوخی سے سری لنکا کرکٹ کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑےگا۔سری لنکا کرکٹ کے بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی قسم کی عدم شرکت کے دور رس اثرات ہوں گے، جن میں سری لنکا کرکٹ کو نمایاں مالی نقصان اور متوقع سیاحتی آمدن میں کمی شامل ہے، پاک بھارت میچ کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل ہیں، میچ کے ٹکٹس کی فروخت سمیت میزبانی کی تمام تیاریاں مکمل کی ہیں۔سری لنکا میڈیا کے مطابق پاکستان کےبائیکاٹ کےاعلان سے سری لنکا کی ٹورزم سیکٹر متاثر ہوا ہے، بائیکاٹ کی وجہ سے بڑی تعداد میں فینز نے ہوٹلز کی بکنگ منسوخ کر دی ۔ خط میں کہا گیا کہ سری لنکا کرکٹ نے مشکل وقت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا ساتھ دیا ہے۔سری لنکا کرکٹ کے بیان میں پاکستان کرکٹ بورڈ سےکہا گیا کہ ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ غیر معمولی حالات، ہمارے دونوں بورڈز کے دیرینہ تعلقات اور کرکٹ کے وسیع تر مفاد کو پیشِ نظر رکھیں۔واضح رہےکہ حکومت پاکستان نے مینزکرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں روایتی حریف بھارت کے خلاف میدان میں اترنے سے روک رکھا ہے۔دوسری جانب آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کو منانےکی کوششیں جاری ہیں ۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کی ملاقات جاری ہے، ملاقات میں بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی موجود ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ ملاقات کا ایجنڈا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کو بھارت کے خلاف راؤنڈ میچ کھیلنے پر آمادہ کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اماراتی کرکٹ بورڈ پاکستان کرکٹ بورڈ کے فیصلے پر نظر سری لنکا کرکٹ بھارت کے خلاف کے مطابق پی سی بی کرکٹ کے میچ کے
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں