امریکہ نے جنگ مسلط کی تو ایران کا ردعمل بھی اسی طرح سخت ہوگا جیسا بارہ روزہ جنگ میں ہوا، رضا امیری مقدم
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
پاکستانی سینیئر صحافیوں کی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ موجودہ جنگ صرف اسلحے کی نہیں بلکہ عزم و حوصلے اور بیانیے کی بھی ہے، اسرائیل صرف ایک صہیونی ریاست کا تصور رکھتا ہے اور دو ریاستی حل کی بات محض دنیا کو دھوکہ دینے کے لیے کی جاتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں خانہ فرہنگ کلچرل و مذہبی ہم آہنگی کے زیرِ اہتمام ایرانی سفیر رضا امیری مقدم اور پاکستانی سینیئر صحافیوں کے درمیان ایک نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں علاقائی صورتحال، فلسطین مسئلہ، میڈیا کے کردار اور پاک ایران تعلقات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران اس وقت صہیونی اور مغربی بیانیے کے خلاف نہ صرف سفارتی اور میڈیا سطح پر بلکہ عملی طور پر بھی جدوجہد کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی اور اسرائیلی میڈیا اسلام کی ایک غیر حقیقی تصویر پیش کر رہا ہے، جس کا مقابلہ حقائق کے ذریعے کرنا ضروری ہے، اور بارہ روزہ جنگ کے دوران پاکستان کے میڈیا نے ایران کا بھرپور ساتھ دیا۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ موجودہ جنگ صرف اسلحے کی نہیں بلکہ عزم و حوصلے اور بیانیے کی بھی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکہ نے جنگ مسلط کی تو ایران کا ردعمل بھی اسی طرح سخت ہوگا جیسا بارہ روزہ جنگ میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل صرف ایک صہیونی ریاست کا تصور رکھتا ہے اور دو ریاستی حل کی بات محض دنیا کو دھوکہ دینے کے لیے کی جاتی ہے۔ ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ غزہ پیس بورڈ کے بعض پہلو تشویشناک ہیں، تاہم پاکستان حکومت کا اس کے ایک منفی پہلو سے الگ رہنے کا اعلان خوش آئند ہے۔ انہوں نے پاک ایران سرحدی علاقوں میں روزگار اور ترقی کے مواقع پیدا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشی ترقی کے ذریعے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔
ایرانی سفیر نے ایران میں خواتین کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حجاب کے حوالے سے قانون موجود ہے، تاہم کسی قسم کی سختی نہیں کی جاتی، اور خواتین ہر شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی جامعات میں طالبات کی تعداد طلبہ کے برابر یا اس سے زیادہ ہے، جبکہ تدریسی اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں بھی خواتین کی نمائندگی نمایاں ہے۔ نشست کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، میڈیا تعاون بڑھانے اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا گیا۔