WE News:
2026-06-03@05:46:52 GMT

ایران امریکا مذاکرات کی تاریخ اب تک مقرر کیوں نہیں ہوسکی؟

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

ایران امریکا مذاکرات کی تاریخ اب تک مقرر کیوں نہیں ہوسکی؟

ایران اور امریکا نے ابھی تک ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر نئے مذاکرات کے لیے تاریخ مقرر نہیں کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی: پاکستان کا مکالمے اور سفارت کاری پر زور، وزیراعظم کا صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ

گزشتہ ہفتے ابتدائی ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایران کے خلاف فوری فوجی کارروائی کرنے میں تیزی نہیں دکھا رہے۔

6 فروری کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان میں امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر سے ملاقات کی۔ یہ مذاکرات بالواسطہ تھے اور عمانی ثالث کے طور پر کام کر رہے تھے حالانکہ بعد میں تہران نے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے مصافحہ کی خبر دی۔

ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے عمان اور بعد میں امریکا کے حلیف قطر کا دورہ کیا تاہم مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔

مذاکرات کے موضوعات اور عالمی ردعمل

علی لاریجانی نے کہا کہ عمانی دوستانہ رابطوں کے ذریعے امریکی مؤقف سامنے آیا مگر مزید تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ ٹرمپ نے عمان مذاکرات کو بہت اچھا قرار دیتے ہوئے مزید ملاقات کا عندیہ دیا تھا لیکن ابھی تک یہ ملاقات عمل میں نہیں آئی۔

ترکی کے وزیر خارجہ حکان فیدان نے مالیاتی اخبارات کو بتایا کہ یورینیم کی افزودگی کے اہم معاملے پر سمجھوتہ ممکن ہے۔ مغرب کا مؤقف ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ تہران اس سے انکار کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ یورینیم کی افزودگی روک دی جائے۔

مزید پڑھیے: ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کہا کہ صدر اچھی ڈیل کے لیے حالات بنا رہے ہیں مگر ساتھ ہی ایران کے بیلسٹک میزائل اور علاقائی حمایتی گروہوں کے مسائل کو بھی شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایران کی اندرونی پالیسی اور احتجاجات

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ابھی تک سفارت کاری کی کھلے عام حمایت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ دشمن جو ایرانی قوم کو اپنے منصوبوں کے ذریعے زیر کرنے کی کوشش کرتے تھے وہ ناکام ہوئے۔

امریکی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق جنوری کے احتجاجات میں 7,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت مظاہرین کی تھی۔

امریکی فوجی دباؤ

امریکا نے مشرق وسطیٰ میں ایک ایئرکرافٹ کیریئر کی قیادت میں نیول گروپ بھیجا، جسے ٹرمپ نے آرماڈا کہا۔ تاہم ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ مذاکرات جاری رہیں گے تاکہ ممکنہ ڈیل کو دیکھا جا سکے۔

سفارت کاری یا وقتی حکمت عملی؟

راس ہیرسن، مشرق وسطیٰ انسٹیٹیوٹ کے سینیئر فیلو، کے مطابق یہ مذاکرات ایران کے لیے وقت خریدنے کی کوشش ہیں تاکہ میزائل پروگرام کو دوبارہ مضبوط کیا جا سکے۔ ان کے بقول مذاکرات کا حقیقی ہدف امریکا نہیں بلکہ خلیجی عرب ممالک ہیں جو فوجی کارروائی کو روکنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

حالیہ صورتحال میں اسرائیل زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ سعودی عرب، مصر، ترکی، قطر اور متحدہ عرب امارات صدر ٹرمپ کو حقیقی سفارتی راہ اپنانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ

ایران مذاکرات میں شرکت کر کے اچھے ارادے کا مظاہرہ کر رہا ہے مگر حقیقی ہدف امریکا کے بجائے خطے کے اتحادی ممالک ہیں جو ممکنہ فوجی حملے کو مؤخر کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا مذاکرات کی تاریخ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا مذاکرات کی تاریخ ایران امریکا ایران کے کی کوشش کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟