WE News:
2026-07-23@23:44:39 GMT

ایران امریکا مذاکرات کی تاریخ اب تک مقرر کیوں نہیں ہوسکی؟

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

ایران امریکا مذاکرات کی تاریخ اب تک مقرر کیوں نہیں ہوسکی؟

ایران اور امریکا نے ابھی تک ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر نئے مذاکرات کے لیے تاریخ مقرر نہیں کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی: پاکستان کا مکالمے اور سفارت کاری پر زور، وزیراعظم کا صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ

گزشتہ ہفتے ابتدائی ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایران کے خلاف فوری فوجی کارروائی کرنے میں تیزی نہیں دکھا رہے۔

6 فروری کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان میں امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر سے ملاقات کی۔ یہ مذاکرات بالواسطہ تھے اور عمانی ثالث کے طور پر کام کر رہے تھے حالانکہ بعد میں تہران نے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے مصافحہ کی خبر دی۔

ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے عمان اور بعد میں امریکا کے حلیف قطر کا دورہ کیا تاہم مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔

مذاکرات کے موضوعات اور عالمی ردعمل

علی لاریجانی نے کہا کہ عمانی دوستانہ رابطوں کے ذریعے امریکی مؤقف سامنے آیا مگر مزید تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ ٹرمپ نے عمان مذاکرات کو بہت اچھا قرار دیتے ہوئے مزید ملاقات کا عندیہ دیا تھا لیکن ابھی تک یہ ملاقات عمل میں نہیں آئی۔

ترکی کے وزیر خارجہ حکان فیدان نے مالیاتی اخبارات کو بتایا کہ یورینیم کی افزودگی کے اہم معاملے پر سمجھوتہ ممکن ہے۔ مغرب کا مؤقف ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ تہران اس سے انکار کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ یورینیم کی افزودگی روک دی جائے۔

مزید پڑھیے: ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کہا کہ صدر اچھی ڈیل کے لیے حالات بنا رہے ہیں مگر ساتھ ہی ایران کے بیلسٹک میزائل اور علاقائی حمایتی گروہوں کے مسائل کو بھی شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایران کی اندرونی پالیسی اور احتجاجات

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ابھی تک سفارت کاری کی کھلے عام حمایت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ دشمن جو ایرانی قوم کو اپنے منصوبوں کے ذریعے زیر کرنے کی کوشش کرتے تھے وہ ناکام ہوئے۔

امریکی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق جنوری کے احتجاجات میں 7,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت مظاہرین کی تھی۔

امریکی فوجی دباؤ

امریکا نے مشرق وسطیٰ میں ایک ایئرکرافٹ کیریئر کی قیادت میں نیول گروپ بھیجا، جسے ٹرمپ نے آرماڈا کہا۔ تاہم ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ مذاکرات جاری رہیں گے تاکہ ممکنہ ڈیل کو دیکھا جا سکے۔

سفارت کاری یا وقتی حکمت عملی؟

راس ہیرسن، مشرق وسطیٰ انسٹیٹیوٹ کے سینیئر فیلو، کے مطابق یہ مذاکرات ایران کے لیے وقت خریدنے کی کوشش ہیں تاکہ میزائل پروگرام کو دوبارہ مضبوط کیا جا سکے۔ ان کے بقول مذاکرات کا حقیقی ہدف امریکا نہیں بلکہ خلیجی عرب ممالک ہیں جو فوجی کارروائی کو روکنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

حالیہ صورتحال میں اسرائیل زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ سعودی عرب، مصر، ترکی، قطر اور متحدہ عرب امارات صدر ٹرمپ کو حقیقی سفارتی راہ اپنانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ

ایران مذاکرات میں شرکت کر کے اچھے ارادے کا مظاہرہ کر رہا ہے مگر حقیقی ہدف امریکا کے بجائے خطے کے اتحادی ممالک ہیں جو ممکنہ فوجی حملے کو مؤخر کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا مذاکرات کی تاریخ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا مذاکرات کی تاریخ ایران امریکا ایران کے کی کوشش کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم