ایران امریکا مذاکرات کی تاریخ اب تک مقرر کیوں نہیں ہوسکی؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
ایران اور امریکا نے ابھی تک ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر نئے مذاکرات کے لیے تاریخ مقرر نہیں کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی: پاکستان کا مکالمے اور سفارت کاری پر زور، وزیراعظم کا صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ
گزشتہ ہفتے ابتدائی ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایران کے خلاف فوری فوجی کارروائی کرنے میں تیزی نہیں دکھا رہے۔
6 فروری کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان میں امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر سے ملاقات کی۔ یہ مذاکرات بالواسطہ تھے اور عمانی ثالث کے طور پر کام کر رہے تھے حالانکہ بعد میں تہران نے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے مصافحہ کی خبر دی۔
ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے عمان اور بعد میں امریکا کے حلیف قطر کا دورہ کیا تاہم مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔
مذاکرات کے موضوعات اور عالمی ردعملعلی لاریجانی نے کہا کہ عمانی دوستانہ رابطوں کے ذریعے امریکی مؤقف سامنے آیا مگر مزید تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ ٹرمپ نے عمان مذاکرات کو بہت اچھا قرار دیتے ہوئے مزید ملاقات کا عندیہ دیا تھا لیکن ابھی تک یہ ملاقات عمل میں نہیں آئی۔
ترکی کے وزیر خارجہ حکان فیدان نے مالیاتی اخبارات کو بتایا کہ یورینیم کی افزودگی کے اہم معاملے پر سمجھوتہ ممکن ہے۔ مغرب کا مؤقف ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ تہران اس سے انکار کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ یورینیم کی افزودگی روک دی جائے۔
مزید پڑھیے: ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کہا کہ صدر اچھی ڈیل کے لیے حالات بنا رہے ہیں مگر ساتھ ہی ایران کے بیلسٹک میزائل اور علاقائی حمایتی گروہوں کے مسائل کو بھی شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ایران کی اندرونی پالیسی اور احتجاجاتایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ابھی تک سفارت کاری کی کھلے عام حمایت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ دشمن جو ایرانی قوم کو اپنے منصوبوں کے ذریعے زیر کرنے کی کوشش کرتے تھے وہ ناکام ہوئے۔
امریکی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق جنوری کے احتجاجات میں 7,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت مظاہرین کی تھی۔
امریکی فوجی دباؤامریکا نے مشرق وسطیٰ میں ایک ایئرکرافٹ کیریئر کی قیادت میں نیول گروپ بھیجا، جسے ٹرمپ نے آرماڈا کہا۔ تاہم ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ مذاکرات جاری رہیں گے تاکہ ممکنہ ڈیل کو دیکھا جا سکے۔
سفارت کاری یا وقتی حکمت عملی؟راس ہیرسن، مشرق وسطیٰ انسٹیٹیوٹ کے سینیئر فیلو، کے مطابق یہ مذاکرات ایران کے لیے وقت خریدنے کی کوشش ہیں تاکہ میزائل پروگرام کو دوبارہ مضبوط کیا جا سکے۔ ان کے بقول مذاکرات کا حقیقی ہدف امریکا نہیں بلکہ خلیجی عرب ممالک ہیں جو فوجی کارروائی کو روکنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
حالیہ صورتحال میں اسرائیل زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ سعودی عرب، مصر، ترکی، قطر اور متحدہ عرب امارات صدر ٹرمپ کو حقیقی سفارتی راہ اپنانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ
ایران مذاکرات میں شرکت کر کے اچھے ارادے کا مظاہرہ کر رہا ہے مگر حقیقی ہدف امریکا کے بجائے خطے کے اتحادی ممالک ہیں جو ممکنہ فوجی حملے کو مؤخر کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا مذاکرات کی تاریخ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا مذاکرات کی تاریخ ایران امریکا ایران کے کی کوشش کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ