اسرائیل جوہری مذاکرات کی کامیابی میں بڑی رکاوٹ ہے، علی لاریجانی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
مسقط :(ویب ڈیسک) ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکراتی عمل کی کامیابی میں اسرائیل بڑی رکاوٹ ہے۔
عمان کے دارالحکومت مسقط میں اعلیٰ حکام سے اہم ملاقات کے بعد ایک بیان میں علی لاریجانی نے کہا کہ مذاکرات میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے اور امریکہ بظاہر کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے آمادہ دکھائی دیتا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے بھی کہا ہےکہ امریکہ اور ایران جوہری معاہدےکے حوالے سے کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔