پیپلز پارٹی سابق بنگلادیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے انجام سے سبق سیکھے، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ ہمارے 50 کے قریب کارکن پولیس کی حراست میں ہیں، مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کو فوری رہا کیا جائے، ہم احتجاج کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے درخواست ہے کہ اس معاملے کو دیکھیں ورنہ معاملہ ان کے ہاتھ میں نہیں رہے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ میں پیپلز پارٹی کو خبردار کرتا ہوں کہ وہ سابق بنگلادیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے انجام سے سبق سیکھے، پورے ملک کے عوام اہل کراچی کی جدو جہد میں ان کی پشت پر ہیں، قابض مئیر کو قابض مئیر اور قابض سسٹم کو قابض سسٹم ہی کہا جائے گا، پولیس کے وحشیانہ تشدد، شیلنگ و لاٹھی چارج کے بعد رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت ہمارے 50 سے زائد کارکنان گرفتار اور لاپتا ہیں، پولیس شاہ سے زیادہ شاہ کی وفادار نہ بنے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ پولیس والوں سے ہماری لڑائی نہیں ہے، ان کے افسران سے کہتا ہوں کہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری نہ کریں، آج پیپلز پارٹی نے ہمارے خلاف پولیس کو استعمال کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم شہر کے عوام کی بات کر رہے ہیں، دہشتگردی کو کسی صورت قابل نہیں کیا جائے گا، یہ چاہتے ہیں کہ نوجوان تشدد کا راستہ اختیار کریں، ہم پرامن رہیں گے لیکن اپنا احتجاج جاری رکھیں گے، جماعت اسلامی کے کارکنان کو سلام پیش کرتا ہوں جو عزم وہمت کے ساتھ ڈٹے رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے شہر کو سیاسی طور پر تنہا کردیا ہے، پیپلز پارٹی کا ریاستی جبر پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے، پولیس نے ہزاروں کی تعداد میں شیل برسائے ہیں، مظاہرین شیلنگ سے زخمی ہوئے ہیں، فائر بریگیڈ کا عملہ آیا تو اس پر بھی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں فائر ورکر بھی زخمی ہوگیا، ہم وڈیرہ مائنڈ سیٹ اور قابض سسٹم کو پیچھے ہٹانے پر مجبور ہوں گے، شہر کے بچے گٹر میں گر کر مررہے ہیں۔ گل پلازہ میں آگ لگی تو یہ حکمران لوگوں کو بچا نہیں سکے، گئے گزرے حالات میں بھی شہر سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حکمرانوں کے پاس شہر کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے، شہر کے لوگوں کے لیے باعزت ٹرانسپورٹ تک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے 50 کے قریب کارکن پولیس کی حراست میں ہیں، مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کو فوری رہا کیا جائے، ہم احتجاج کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے درخواست ہے کہ اس معاملے کو دیکھیں ورنہ معاملہ ان کے ہاتھ میں نہیں رہے گا۔