اسلام آباد (عترت جعفری) سرکاری رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ بجلی اور گیس کے سیکٹر میں سرکلر ڈیٹ میں 13 فیصد کی کمی کسی آپریشنل بہتری  کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ کمی مالی انجکشن دینے سے آئی، سرکاری رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے مالی سال 25 میں پاور سیکٹر کا سرکولر ڈیٹ  1889 ارب روپے ہے۔ مالی سال 24 میں 2440 ارب روپے تھا، گیس سیکٹر کا سرکولر ڈیٹ 2040 اربوں روپے ہے جبکہ یہ گزشتہ مالی  سال میں 2077 ارب روپے تھا، مجموعی سرکلر ڈیٹ 3929 ارب روپے ہے، مالی سال 2024ء میں ان فنڈڈ پینشن کی ذمہ داریاں 1438 ارب روپے تھی جبکہ مالی سال 25ء میں یہ بڑھ کر 2030 ارب روپے ہو گئی۔مالی سال 2025ء میں سرکاری ملکیتی اداروں کے لیے حکومتی مالی معاونت میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو بڑھ کر 2,078.

5 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ یہ گزشتہ سال کی 1,512.9 ارب روپے کی معاونت کے مقابلے میں 37 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ ایکویٹی انجیکشنز میں ہوا، جو مالی سال 2025 میں 728.9 ارب روپے رہے۔ حکومت کی جانب سے ایس او ایز کو فراہم کردہ قرضوں میں بھی 34 فیصد اضافہ ہوا، جو 263.3 ارب روپے سے بڑھ کر 354.1 ارب روپے تک پہنچ گئے۔گارنٹیز، قرضوں اور ایکویٹی میں اضافے کے برعکس گرانٹس اور سبسڈیز میں کمی آئی۔ گرانٹس میں 27 فیصد کمی ہو کر یہ 269.2 ارب روپے رہ گئیں، جبکہ سبسڈیز میں 7 فیصد کمی کے بعد یہ 726.3 ارب روپے تک محدود رہیں۔ یہ کمی ممکنہ طور پر حکومتی ترجیحات میں تبدیلی یا بعض شعبوں میں بہتر آپریشنل کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔ خودمختار ضمانتیں (سوورین گارنٹیز): یہ نمایاں طور پر بڑھ کر مالی سال 2024ء کے 1,419.0 ارب روپے سے مالی سال 2025ء میں 2,164.0 ارب روپے ہو گئیں، جو 52 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ مالی سال 2025ء میں وفاقی حکومت نے 12,970 ارب روپے ٹیکس محصولات جمع کیے، جن میں سے تقریباً 2,078 ارب روپے (تقریباً 16 فیصد) سبسڈیز، ایکویٹی انجیکشنز، گرانٹس اور قرضوں کی صورت میں دوبارہ ایس او ایز کو منتقل کیے گئے۔ عملی طور پر ہر 6 روپے ٹیکس وصولی میں سے 1 روپیہ سرکاری ملکیتی اداروں پر خرچ ہو جاتا ہے۔ مالی سال 2025ء میں سرکاری ملکیتی اداروں نے وفاقی حکومت کو مجموعی طور پر 2,119.2 ارب روپے کی نمایاں مالی شراکت فراہم کی۔ غیر ٹیکس آمدن میں رائلٹیز، لیویز، ترقیاتی سرچارجز اور دیگر قانونی محصولات شامل ہیں، میں 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ رقم گزشتہ سال کے 1,400.5 ارب روپے سے کم ہو کر مالی سال 2025ء میں 1,264.9 ارب روپے رہ گئی۔ یس او ایز کی جانب سے حکومتی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جو 115.0 ارب روپے سے بڑھ کر 267.8 ارب روپے تک پہنچ گئیں، یعنی 133 فیصد اضافہ بنتا ہے۔ غیر فنڈ شدہ پنشن واجبات 2,030 ارب روپے ہیں، جن میں پاکستان ریلوے کی پنشن شامل نہیں، کیونکہ وہ پنشن کو مجموعی غیر فنڈ شدہ واجبات کے بجائے سالانہ کیش بنیاد پر رپورٹ کرتا ہے۔ سرکلر ڈیٹ کی سطح میں کمی دیکھی گئی، خصوصاً بجلی کے شعبے میں، جہاں یہ 2,440.4 ارب روپے سے کم ہو کر 1,889.9 ارب روپے رہ گیا۔ اس کے برعکس، گیس سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ تقریباً 2.0 ٹریلین روپے کی سطح پر مستحکم رہا، جو ساختی چیلنجز کے تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے۔ مجموعی طور پر آئی ایف آر ایس کے مکمل اکروئل بنیاد پر سرکلر ڈیٹ 4,517 ارب روپے سے کم ہو کر 3,929 ارب روپے ہو گیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی

پاور ڈویژن نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال جون کے دوران بجلی صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا۔

اعلامیے کے مطابق ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.73 روپے فی یونٹ اضافہ جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو مجموعی طور پر 20 پیسے فی یونٹ کا فائدہ حاصل ہوگا۔

پاور ڈویژن کے مطابق جون میں بجلی کے نرخ جنوری تا مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سہ ماہی ریلیف کی شرح ماہانہ اضافے سے زیادہ رہی، جس کی وجہ سے صارفین کو خالص ریلیف میسر آئے گا۔

پاور ڈویژن نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار رہی اور برینٹ کروڈ آئل کی متوقع قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس صورتحال کے باوجود حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے بجلی صارفین کو بڑے اضافی مالی بوجھ سے محفوظ رکھا۔

اعلامیے کے مطابق اپریل میں بجلی کی قیمت میں ممکنہ طور پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافے کا خدشہ تھا، تاہم حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اس اضافے کو محدود کرکے 1.73 روپے فی یونٹ تک رکھا گیا۔ اس طرح صارفین پر تقریباً 38 ارب روپے کا اضافی بوجھ منتقل ہونے سے بچ گیا۔

پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ محدود لوڈ مینجمنٹ، مقامی گیس کے استعمال اور فرنس آئل کے مؤثر استعمال کے ذریعے توانائی کے بحران کا مقابلہ کیا گیا۔

مزید بتایا گیا کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے جس سے مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا ریلیف صارفین کو ملے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ لائن لاسز میں کمی اور بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث صارفین کو نمایاں ریلیف فراہم ہوا، جبکہ متوقع بیس ٹیرف کے مقابلے میں 46 ارب روپے کی منفی تبدیلی بھی صارفین کے حق میں گئی۔

پاور ڈویژن نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے عالمی اور علاقائی سطح پر درپیش مشکلات کے باوجود بجلی کے نرخوں کو مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بجلی صارفین پاور ڈویژن ریلیف کا اعلان عوام کو خوشخبری وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے