امریکی رائے عامہ "ایران کیخلاف جنگ" کی مخالف ہے، امریکی تھنک ٹینک کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
معروف امریکی تھنک ٹینک نے تازہ ترین سروے کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر کو ایران کیخلاف کارروائی کیلئے ضروری اندرونی حمایت حاصل نہیں اسلام ٹائمز۔ معروف امریکی تھنک ٹینک کوئنسی انسٹیٹیوٹ نے اپنے ای مجلے ریسپانسبل اسٹیٹ کرافٹ (Responsible Statecraft) پر ایک خصوصی تحقیقی رپورٹ شائع کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکی حکومت کو جنگِ عراق کے برعکس، ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے لئے ضروری حمایت حاصل نہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق، جب سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے سال 2003 میں عراق پر حملہ کیا تھا تو گیلپ پول کے مطابق، 72 فیصد امریکیوں نے اس جنگ کی حمایت کی تھی لیکن اس وقت، ایک چوتھائی امریکی شہریوں سے بھی کم تعداد، اس روز افزوں کشیدگی کی حمایت کرتی ہے۔
یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ایس ایس آر ایس (SSRS) نامی انسٹیٹیوٹ کی جانب سے انجام پانے والے اس سروے میں شرکاء سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا آپ موجودہ حالات میں ایران کے خلاف امریکی حملے کی حمایت کرتے ہیں یا مخالفت؟، جس کا صرف 21 فیصد نے ہی مثبت جواب دیا جبکہ 49 فیصد نے اس کی واضح مخالفت کی ہے، نیز دیگر 30 فیصد نے "معلوم نہیں" کا انتخاب کیا۔ امریکی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ اس اعداد و شمار کا مطلب یہ ہے کہ 79 فیصد امریکی شہری، ایسے کسی بھی اقدام کی "حمایت نہیں کرتے"۔ یہ سروے 5 تا 9 فروری کے درمیان انجام پایا کہ جس کے مطابق (ٹرمپ کی اپنی پارٹی کے) ریپبلکن اراکین بھی اس اقدام کے بارے مثبت نظر نہیں رکھتے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کے ریپبلکن اراکین پارلیمنٹ میں سے 60 فیصد، ایران کے خلاف جنگ کی حمایت نہیں کرتے!
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی تھنک ٹینک کے مطابق کی حمایت
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔