نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی مصنفہ اروندھتی رائے نے برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے، جس کی وجہ انہوں نے جیوری ارکان کی جانب سے غزہ کے بارے میں دیے گئے ناقابل معافی بیانات بتائی ہے۔
بھارت کے اخبار دی وائر میں لکھتے ہوئے اروندھتی رائے نے کہا کہ فیسٹیول کی جیوری کے ارکان، جن میں جیوری کے چیئرمین اور معروف ہدایتکار وِم وینڈرز بھی شامل ہیں، کا یہ کہنا کہ ’فن کو سیاسی نہیں ہونا چاہئے‘ انتہائی حیران کن ہے۔

بھارتی دانشور مصنفہ نے لکھا کہ یہ انسانیت کے خلاف جرم پر گفتگو کو بند کرنے کا ایک طریقہ ہے، جبکہ یہ جرم ہماری آنکھوں کے سامنے جاری ہے، میں صدمے اور نفرت کا شکار ہوں، فنکاروں، مصنفوں اور فلم سازوں کو جنگ روکنے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال کرنی چاہئے۔

اروندھتی نے واضح الفاظ میں کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہوا اور جو جاری ہے، وہ فلسطینی عوام کی نسل کشی ہے جو اسرائیلی ریاست کر رہی ہے، یہ جنگ امریکہ اور جرمنی سمیت یورپ کے کئی ممالک کی حمایت اور مالی مدد سے جاری ہے، جس سے یہ ممالک بھی اس جرم میں شریک بنتے ہیں۔

خیال رہے کہ برلن فلم فیسٹیول کے افتتاحی پینل کے دوران ایک صحافی نے جیوری ارکان سے جرمن حکومت کی جانب سے غزہ میں نسل کشی کی حمایت اور انسانی حقوق کے منتخب اطلاق پر ان کی رائے پوچھی تھی جس پر جیوری چیئرمین وِم وینڈرز نے جواب دیا کہ فلم سازوں کو سیاست سے دور رہنا چاہئے، اگر ہم مکمل طور پر سیاسی فلمیں بنائیں تو ہم سیاست کے میدان میں داخل ہو جائیں گے، جبکہ ہم سیاست کے مخالف توازن ہیں، ہمیں عوام کا کام کرنا چاہئے، سیاستدانوں کا نہیں۔

جیوری کی ایک اور رکن، پولینڈ کی فلم پروڈیوسر ایوا پُشچِنِسکا نے کہا کہ ایسا سوال پوچھنا کچھ حد تک غیر منصفانہ ہے، کیونکہ فلم ساز اس بات کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے کہ حکومتیں اسرائیل یا فلسطین کی حمایت کریں، دنیا میں کئی دوسری جنگیں بھی ہیں جہاں نسل کشی ہو رہی ہے مگر ہم ان پر بات نہیں کرتے۔

اروندھتی رائے اس فیسٹیول میں شرکت کرنے والی تھیں، جو 12 سے 22 فروری تک جاری رہتا ہے، کیونکہ ان کی 1989 کی فلم ’’اِن وچ اینی گیوز اٹ دوز وُنز‘‘ کو کلاسکس سیکشن میں نمائش کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ جرمنی، جو امریکہ کے بعد اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، نے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

2024 میں 500 سے زائد بین الاقوامی فنکاروں، فلم سازوں، مصنفوں اور ثقافتی کارکنوں نے جرمنی کے سرکاری مالی تعاون سے چلنے والے ثقافتی اداروں کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارے ایسے میکارتھی طرز کی پالیسیوں پر عمل کر رہے ہیں جو اظہارِ رائے کی آزادی، خاص طور پر فلسطین سے یکجہتی کے اظہار، کو دبانے کا سبب بن رہی ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ثقافتی ادارے سوشل میڈیا، درخواستوں، کھلے خطوط اور عوامی بیانات کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ فلسطین کی حمایت کرنے والے ثقافتی کارکنوں کو الگ کیا جا سکے، کیونکہ وہ جرمنی کی اسرائیل کی غیر مشروط حمایت سے متفق نہیں ہوتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اروندھتی رائے کی حمایت

پڑھیں:

بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی

پاور ڈویژن نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال جون کے دوران بجلی صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا۔

اعلامیے کے مطابق ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.73 روپے فی یونٹ اضافہ جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو مجموعی طور پر 20 پیسے فی یونٹ کا فائدہ حاصل ہوگا۔

پاور ڈویژن کے مطابق جون میں بجلی کے نرخ جنوری تا مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سہ ماہی ریلیف کی شرح ماہانہ اضافے سے زیادہ رہی، جس کی وجہ سے صارفین کو خالص ریلیف میسر آئے گا۔

پاور ڈویژن نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار رہی اور برینٹ کروڈ آئل کی متوقع قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس صورتحال کے باوجود حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے بجلی صارفین کو بڑے اضافی مالی بوجھ سے محفوظ رکھا۔

اعلامیے کے مطابق اپریل میں بجلی کی قیمت میں ممکنہ طور پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافے کا خدشہ تھا، تاہم حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اس اضافے کو محدود کرکے 1.73 روپے فی یونٹ تک رکھا گیا۔ اس طرح صارفین پر تقریباً 38 ارب روپے کا اضافی بوجھ منتقل ہونے سے بچ گیا۔

پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ محدود لوڈ مینجمنٹ، مقامی گیس کے استعمال اور فرنس آئل کے مؤثر استعمال کے ذریعے توانائی کے بحران کا مقابلہ کیا گیا۔

مزید بتایا گیا کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے جس سے مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا ریلیف صارفین کو ملے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ لائن لاسز میں کمی اور بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث صارفین کو نمایاں ریلیف فراہم ہوا، جبکہ متوقع بیس ٹیرف کے مقابلے میں 46 ارب روپے کی منفی تبدیلی بھی صارفین کے حق میں گئی۔

پاور ڈویژن نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے عالمی اور علاقائی سطح پر درپیش مشکلات کے باوجود بجلی کے نرخوں کو مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بجلی صارفین پاور ڈویژن ریلیف کا اعلان عوام کو خوشخبری وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان