غزہ سے یکجہتی، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول سے دستبرداری کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی مصنفہ اروندھتی رائے نے برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے، جس کی وجہ انہوں نے جیوری ارکان کی جانب سے غزہ کے بارے میں دیے گئے ناقابل معافی بیانات بتائی ہے۔
بھارت کے اخبار دی وائر میں لکھتے ہوئے اروندھتی رائے نے کہا کہ فیسٹیول کی جیوری کے ارکان، جن میں جیوری کے چیئرمین اور معروف ہدایتکار وِم وینڈرز بھی شامل ہیں، کا یہ کہنا کہ ’فن کو سیاسی نہیں ہونا چاہئے‘ انتہائی حیران کن ہے۔
بھارتی دانشور مصنفہ نے لکھا کہ یہ انسانیت کے خلاف جرم پر گفتگو کو بند کرنے کا ایک طریقہ ہے، جبکہ یہ جرم ہماری آنکھوں کے سامنے جاری ہے، میں صدمے اور نفرت کا شکار ہوں، فنکاروں، مصنفوں اور فلم سازوں کو جنگ روکنے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال کرنی چاہئے۔
اروندھتی نے واضح الفاظ میں کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہوا اور جو جاری ہے، وہ فلسطینی عوام کی نسل کشی ہے جو اسرائیلی ریاست کر رہی ہے، یہ جنگ امریکہ اور جرمنی سمیت یورپ کے کئی ممالک کی حمایت اور مالی مدد سے جاری ہے، جس سے یہ ممالک بھی اس جرم میں شریک بنتے ہیں۔
خیال رہے کہ برلن فلم فیسٹیول کے افتتاحی پینل کے دوران ایک صحافی نے جیوری ارکان سے جرمن حکومت کی جانب سے غزہ میں نسل کشی کی حمایت اور انسانی حقوق کے منتخب اطلاق پر ان کی رائے پوچھی تھی جس پر جیوری چیئرمین وِم وینڈرز نے جواب دیا کہ فلم سازوں کو سیاست سے دور رہنا چاہئے، اگر ہم مکمل طور پر سیاسی فلمیں بنائیں تو ہم سیاست کے میدان میں داخل ہو جائیں گے، جبکہ ہم سیاست کے مخالف توازن ہیں، ہمیں عوام کا کام کرنا چاہئے، سیاستدانوں کا نہیں۔
جیوری کی ایک اور رکن، پولینڈ کی فلم پروڈیوسر ایوا پُشچِنِسکا نے کہا کہ ایسا سوال پوچھنا کچھ حد تک غیر منصفانہ ہے، کیونکہ فلم ساز اس بات کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے کہ حکومتیں اسرائیل یا فلسطین کی حمایت کریں، دنیا میں کئی دوسری جنگیں بھی ہیں جہاں نسل کشی ہو رہی ہے مگر ہم ان پر بات نہیں کرتے۔
اروندھتی رائے اس فیسٹیول میں شرکت کرنے والی تھیں، جو 12 سے 22 فروری تک جاری رہتا ہے، کیونکہ ان کی 1989 کی فلم ’’اِن وچ اینی گیوز اٹ دوز وُنز‘‘ کو کلاسکس سیکشن میں نمائش کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ جرمنی، جو امریکہ کے بعد اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، نے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
2024 میں 500 سے زائد بین الاقوامی فنکاروں، فلم سازوں، مصنفوں اور ثقافتی کارکنوں نے جرمنی کے سرکاری مالی تعاون سے چلنے والے ثقافتی اداروں کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارے ایسے میکارتھی طرز کی پالیسیوں پر عمل کر رہے ہیں جو اظہارِ رائے کی آزادی، خاص طور پر فلسطین سے یکجہتی کے اظہار، کو دبانے کا سبب بن رہی ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ثقافتی ادارے سوشل میڈیا، درخواستوں، کھلے خطوط اور عوامی بیانات کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ فلسطین کی حمایت کرنے والے ثقافتی کارکنوں کو الگ کیا جا سکے، کیونکہ وہ جرمنی کی اسرائیل کی غیر مشروط حمایت سے متفق نہیں ہوتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اروندھتی رائے کی حمایت
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔