data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی صدر ٹرمپ نے اس توقع کا اظہار کیا ہےکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوں گے، ہم  ایران کے ساتھ ڈیل چاہتے ہیں۔

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدر  ٹرمپ نے کہا ہے کہ  ایران  میں اقتدار کی تبدیلی بہترین چیز  ہوگی جو  ہوسکتی ہے ، دنیا کا سب  سے بڑا طیارہ  بردار  جہاز مشرق وسطیٰ روانہ کیا جا رہا ہے، ایران سے ڈیل نہیں ہوئی تو ہمیں اس کی ضرورت پڑے گی۔

واشنگٹن میں میڈیا سےگفتگو  میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارا ایک بحری بیڑا  پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہے، مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو  ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، توقع ہےکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوں گے، ہم  ایران کے ساتھ ڈیل چاہتے ہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ  ہم  یورپی رہنماؤں سے مذاکرات کر رہے ہیں، یورپ کے ساتھ ہمارے   بہترین تعلقات ہیں،  روس معاہدہ کرنا چاہتاہے، یوکرینی صدرکو متحرک ہونا پڑےگا، صدر  زیلنسکی نے کچھ نہ کیا تو بڑا موقع کھو دیں گے۔

دوسری جانب  خبر ایجنسی کا کہنا ہےکہ امریکی فوج  ایران کے خلاف مسلسل  اور طویل آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔

دو امریکی عہدیداروں  نے برطانوی خبر  رساں ایجنسی سےگفتگو  میں بتایا کہ  مسلسل مہم امریکی افواج اور مشرق وسطیٰ کے لیے زیادہ خطرےکا باعث ہوگی، اس مرتبہ حملےکی جاری منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ ہے، امریکا ایران کے جوہری انفرااسٹرکچر ہی نہیں، اسٹیٹ اور سکیورٹی تنصیبات کو بھی نشانہ بنائےگا، امریکا کو  پوری توقع ہےکہ  ایران جوابی کارروائی کرےگا۔

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہےکہ  ایران کے خلاف اس طرح کی کارروائی میں امریکی افواج کے لیےخطرات کہیں زیادہ ہوں گے، ایران میزائلوں کے زبردست ہتھیاروں کا حامل ہے، ایران کے جوابی حملوں سےعلاقائی تنازع کا خطرہ بھی بڑھ سکتاہے۔

خیال رہےکہ امریکا کے اردن،کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، یواے ای  اور ترکیے میں فوجی اڈے موجود ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب کہہ چکی ہےکہ  امریکا نےحملہ کیا تو کسی بھی امریکی فوجی اڈےکو نشانہ بنایاجائےگا۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران کے ساتھ امریکی صدر کا کہنا

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار