ایران کے ساتھ ڈیل کی خواہش اور کامیاب مذاکرات کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ٹرمپ نے اس توقع کا اظہار کیا ہےکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوں گے، ہم ایران کے ساتھ ڈیل چاہتے ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی بہترین چیز ہوگی جو ہوسکتی ہے ، دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز مشرق وسطیٰ روانہ کیا جا رہا ہے، ایران سے ڈیل نہیں ہوئی تو ہمیں اس کی ضرورت پڑے گی۔
واشنگٹن میں میڈیا سےگفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارا ایک بحری بیڑا پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہے، مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، توقع ہےکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوں گے، ہم ایران کے ساتھ ڈیل چاہتے ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم یورپی رہنماؤں سے مذاکرات کر رہے ہیں، یورپ کے ساتھ ہمارے بہترین تعلقات ہیں، روس معاہدہ کرنا چاہتاہے، یوکرینی صدرکو متحرک ہونا پڑےگا، صدر زیلنسکی نے کچھ نہ کیا تو بڑا موقع کھو دیں گے۔
دوسری جانب خبر ایجنسی کا کہنا ہےکہ امریکی فوج ایران کے خلاف مسلسل اور طویل آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔
دو امریکی عہدیداروں نے برطانوی خبر رساں ایجنسی سےگفتگو میں بتایا کہ مسلسل مہم امریکی افواج اور مشرق وسطیٰ کے لیے زیادہ خطرےکا باعث ہوگی، اس مرتبہ حملےکی جاری منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ ہے، امریکا ایران کے جوہری انفرااسٹرکچر ہی نہیں، اسٹیٹ اور سکیورٹی تنصیبات کو بھی نشانہ بنائےگا، امریکا کو پوری توقع ہےکہ ایران جوابی کارروائی کرےگا۔
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہےکہ ایران کے خلاف اس طرح کی کارروائی میں امریکی افواج کے لیےخطرات کہیں زیادہ ہوں گے، ایران میزائلوں کے زبردست ہتھیاروں کا حامل ہے، ایران کے جوابی حملوں سےعلاقائی تنازع کا خطرہ بھی بڑھ سکتاہے۔
خیال رہےکہ امریکا کے اردن،کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، یواے ای اور ترکیے میں فوجی اڈے موجود ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب کہہ چکی ہےکہ امریکا نےحملہ کیا تو کسی بھی امریکی فوجی اڈےکو نشانہ بنایاجائےگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران کے ساتھ امریکی صدر کا کہنا
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔