ایران کا فضائی دفاع مضبوط: چین کا جدید YLC-8B ریڈار سسٹم دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
ایران نے اپنے فضائی دفاع کو مزید مؤثر بنانے کے لیے چین سے جدید طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والا ریڈار سسٹم YLC-8B حاصل کر لیا ہے، جس کے بعد خطے میں دفاعی توازن پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
خبر رساں اداروں نے دفاعی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ جدید ریڈار نہ صرف 500 کلومیٹر دور تک پرواز کرنے والے جنگی طیاروں کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ تقریباً 700 کلومیٹر فاصلے پر موجود میزائلوں کی بھی بروقت نشاندہی کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام کی سب سے اہم خصوصیت اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل طیاروں کا سراغ لگانے کی صلاحیت ہے، جو روایتی ریڈار سسٹمز کے لیے چیلنج سمجھی جاتی ہے۔
یہ ریڈار چین کے معروف سرکاری ادارے Nanjing Research Institute of Electronics Technology نے تیار کیا ہے، جو اس سے قبل جے ایف-17 لڑاکا طیارے کے لیے KLJ-7 ریڈار بھی ڈیزائن کر چکا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی اور ماضی کے فضائی حملوں کے تجربات کے بعد ایران نے اپنی فضائی نگرانی کے نظام کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس پیش رفت کو خطے میں اسٹریٹیجک تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے ایران کی فضائی حدود کی نگرانی اور دفاعی ردعمل کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔