امریکا نے ایران میں حکومت مخالف عناصر کی خفیہ طور پر مدد کی تھی، امریکی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے 6 ہزار اسٹارلنک ٹرمینلز پچھلے ماہ ایران اسمگل کیے تھے، تاکہ حکومت مخالف عناصر انٹرنیٹ پر رابطہ رکھ سکیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اسٹارلنک کے 7 ہزار ٹرمینل خریدے تھے اور اس کے لیے فنڈز وی پی این سے اسٹارلنک کو منتقل کیے گئے تھے، جس پر محکمہ میں بحث بھی ہوئی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران میں مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے بعد امریکا نے اسٹارلنک کے ہزاروں ٹرمینلز ایران میں اسمگل کیے تھے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں بغاوت پر لوگوں کو اکسانے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، مگر شواہد سے واضح ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں حکومت مخالف عناصر کے اقدامات کی خفیہ طور پر مدد کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے 6 ہزار اسٹارلنک ٹرمینلز پچھلے ماہ ایران اسمگل کیے تھے، تاکہ حکومت مخالف عناصر انٹرنیٹ پر رابطہ رکھ سکیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اسٹارلنک کے 7 ہزار ٹرمینل خریدے تھے اور اس کے لیے فنڈز وی پی این سے اسٹارلنک کو منتقل کیے گئے تھے، جس پر محکمہ میں بحث بھی ہوئی تھی۔ بعض اہلکاروں کا خیال تھا کہ اسٹارلنک سے زیادہ بہتر وی پی این ہوں گے۔ ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک کے ٹرمینل ایران میں استعمال کرنا غیر قانونی عمل ہے اور اس کے استعمال پر کئی سال قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حکومت مخالف عناصر ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں کے مطابق
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔