رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے 6 ہزار اسٹارلنک ٹرمینلز پچھلے ماہ ایران اسمگل کیے تھے، تاکہ حکومت مخالف عناصر انٹرنیٹ پر رابطہ رکھ سکیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اسٹارلنک کے 7 ہزار ٹرمینل خریدے تھے اور اس کے لیے فنڈز وی پی این سے اسٹارلنک کو منتقل کیے گئے تھے، جس پر محکمہ میں بحث بھی ہوئی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران میں مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے بعد امریکا نے اسٹارلنک کے ہزاروں ٹرمینلز ایران میں اسمگل کیے تھے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں بغاوت پر لوگوں کو اکسانے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، مگر شواہد سے واضح ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں حکومت مخالف عناصر کے اقدامات کی خفیہ طور پر مدد کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے 6 ہزار اسٹارلنک ٹرمینلز پچھلے ماہ ایران اسمگل کیے تھے، تاکہ حکومت مخالف عناصر انٹرنیٹ پر رابطہ رکھ سکیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اسٹارلنک کے 7 ہزار ٹرمینل خریدے تھے اور اس کے لیے فنڈز وی پی این سے اسٹارلنک کو منتقل کیے گئے تھے، جس پر محکمہ میں بحث بھی ہوئی تھی۔ بعض اہلکاروں کا خیال تھا کہ اسٹارلنک سے زیادہ بہتر وی پی این ہوں گے۔ ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک کے ٹرمینل ایران میں استعمال کرنا غیر قانونی عمل ہے اور اس کے استعمال پر کئی سال قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حکومت مخالف عناصر ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں کے مطابق

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل