ایران کو معاہدہ کرنا ہی ہوگا، ورنہ صورتحال بہت سنگین ہو جائے گی، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260214-01-11
واشنگٹن /تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے اپنے جوہری پروگرام پر معاہدہ نہ کیا تو اسے انتہائی تکلیف دہ نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا ضروری ہے، بصورت دیگر حالات بہت خراب ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ آئندہ ایک ماہ کے دوران ایران کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی ہے، تاہم واشنگٹن کی فوجی نقل و حرکت جاری ہے۔ خطے میں طیارہ بردار بحری جہاز “ابراہم لنکن” بھیجنے کے بعد اب اس بیڑے میں “یو ایس ایس جرالڈ آر فورڈ” بھی شامل ہو جائے گا۔ یہ طیارہ بردار جہاز جوہری توانائی سے چلتا ہے۔ برطانوی انسائیکلوپیڈیا “بریٹانیکا” کے مطابق یہ دنیا کا سب سے بڑا تیرتا ہوا جنگی جہاز ہے۔ اس میں عملے اور ائر ونگ سمیت تقریباً 4600 افراد کی گنجائش موجود ہے۔یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ 90 تک طیارے لے جا سکتا ہے جن میں ایف 35، ایف اے 18 سپر ہارنیٹ، ای اے 18 جی الیکٹرانک اٹیک طیارے، ایم ایچ 60 آر ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز شامل ہیں۔مقامی میڈیا نے گزشتہ روزاطلاع دی کہ ایرانی حکام نے دو سینئر اصلاح پسند شخصیات کو رہا کر دیا ہے جنہیں جنوری میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد حالیہ دنوں میں گرفتار کیا گیا تھا۔ خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق انٹرویو میں ان کے وکیل حُجت کرمانی نے کہا، “جواد امام اور ابراہیم اصغر زادہ کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔” اصغر زادہ پارلیمنٹ کے سابق رکن ہیں اور امام اصلاحی کیمپ کے اہم اتحاد ریفارمسٹ فرنٹ کے ترجمان ہیں۔اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی تازہ ترین ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ٹرمپ یقین رکھتے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ ایک اچھے جوہری معاہدے کے لیے شرائط کی تیاری کر رہے ہیں۔ لیکن نیتن یاہو ایران اور اس کے ساتھ کسی اچھے معاہدے کے لیے اپنے شکوک ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔نیتن یاہو نے ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد ساتویں مرتبہ ملاقات کی اور صدر ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں سخت موقف لی‘ صدر ٹرمپ یقین رکھتے ہیں کہ ایرانیوں کو پہلے ہی سمجھ آگئی ہے کہ ان کا کس سے پالا پڑا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کے ساتھ کوئی متعین معاہدہ نہیں ہوا۔ جبکہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری رہے گی۔ انہیں یقین ہے کہ وہ حقائق کی بنیاد پر ایسی شرائط رکھ رہے ہیں جن کے نتیجے میں ایران اب سمجھنے لگا ہے کہ پچھلی مرتبہ کسی معاہدے پر نہ پہنچ کر ایران نے غلطی کی تھی۔اس لیے ایران کو اب چاہیے کہ وہ اچھے معاہدے کی طرف آجائے۔نیتن یاہو نے کہا میں آپ سے یہ چھپاؤں گا نہیں کہ میں نے صدر ٹرمپ سے بات کرتے ہوئے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اور اس امر پر بھی شک ظاہر کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو جائے گا۔ اسی دوران خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یورپی یونین کے ہوا بازی کے حفاظتی ریگولیٹر نے گزشتہ شام یونین کی فضائی کمپنیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ 31 مارچ تک ایرانی فضائی حدود سے باہر رہیں۔ ایجنسی نے پرانی وارننگ میں توسیع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وسیع پیمانے پر ہتھیاروں اور فضائی دفاعی نظام کی موجودگی اور استعمال، ریاست کے غیر متوقع رد عمل کے ساتھ مل کر تمام بلندیوں اور فلائٹ لیولز پر کام کرنے والی سویلین پروازوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ایران کی اسٹریٹجک کونسل برائے خارجہ تعلقات کے سیکرٹری جلال دہقانی فیروز آبادی کا کہنا ہے کہ ایرانی ایٹمی پروگرام کا کوئی فوجی حل موجود نہیں ہے۔ خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ بات انہوں نے گزشتہ روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔ جلال دہقانی فیروز آبادی نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ مذاکراتی حالات گزشتہ مذاکرات سے مختلف ہیں کیونکہ ملک 12 روزہ جنگ کے تجربے سے گزر چکا ہے جس کی وجہ سے بات چیت اب مزید مشکل ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب آپ کو اس فریق کے ساتھ مذاکرات کرنے ہیں جس نے آپ پر حملہ کیا، اس لیے مذاکرات کا نفسیاتی اور سیاسی ماحول اب زیادہ بوجھل ہو چکا ہے اور امریکا کے حوالے سے بے اعتمادی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران کے ساتھ کرتے ہوئے نیتن یاہو کے مطابق ایران کو کہ ایران کے بعد نے کہا کے لیے
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔