تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2026 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ سال ہونے والے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی لارڈز کے بجائے لندن کے دی اوول کو سونپی گئی ہے۔
آئی سی سی کے مطابق ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل 9 جون سے 13 جون 2027 تک اوول میں کھیلا جائے گا۔
آئی سی سی نے گزشتہ سال اعلان کیا تھا کہ انگلینڈ کو 2027، 2029 اور 2031 کے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنلز کی میزبانی کے حقوق دیے گئے ہیں، جبکہ ہر ایڈیشن کے لیے میزبان گراؤنڈ کا انتخاب انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ خود کرے گا۔
خیال کیا جا رہا تھا کہ2027 ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل ممکنہ طور پر گزشتہ فائنل کی طرح تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں ہوگا۔لیکن انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اس کے بجائے دی اوول میں فائنل کرانے کا فیصلہ کیا۔
مزیدپڑھیں:10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ لارڈز کی پچوں کے معیار پر خدشات ہیں۔
گزشتہ ماہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ کی پچ کو غیر تسلی بخش قرار دیے جانے پر لارڈز کو پہلی بار آئی سی سی کی جانب سے ڈی میرٹ پوائنٹ دیا گیا تھا۔
یہ دوسرا موقع ہوگا کہ اوول ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی کرے گا۔
اس سے قبل 2023 میں بھی فائنل اسی میدان میں کھیلا گیا تھا، جہاں آسٹریلیا نے بھارت کو شکست دے کر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی میزبانی فائنل کی
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔