Express News:
2026-07-24@01:05:40 GMT

اﷲ کے رنگ میں رنگ جائیے۔۔۔۔۔ !

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

سورہ البقرۃ میں اﷲ تعالی کے ارشاد کا مفہوم: ’’کہو! کہ ہم نے اﷲ کا رنگ اختیار کرلیا ہے اور اﷲ کے رنگ سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے اور ہم اﷲ کی عبادت کرنے والے ہیں۔‘‘

انسانی شخصیت پر اﷲ کا رنگ اﷲ کی بندگی سے چڑھتا ہے۔ ہر لمحے ظاہر و باطن میں اﷲ کی رضا کی تلاش مطمعٔ نظر رہے تو اﷲ کا رنگ نصیب ہوتا ہے۔ اس آیت میں اﷲ کے رنگ اور اﷲ کی عبادت کا ایک ساتھ ذکر معنی خیز ہے۔ روزے پر غور کریں تو روزے کے دوران ہر لمحے ظاہر و باطن میں اﷲ کی بندگی کی جا رہی ہوتی ہے۔

آپ ٹھنڈے میٹھے پانی سے گریز کرتے ہیں، کس لیے۔۔۔؟ صرف اﷲ کے لیے۔

آپ گرم نرم روٹی اور مزے دار سالن سے اجتناب کرتے ہیں، کس لیے۔۔۔ ؟ صرف اﷲ کے لیے۔

آپ میٹھے رس بھرے پھلوں اور دیگر نعمتوں سے اجتناب کرتے ہیں، کس لیے۔۔۔ ؟

اگر فی الحقیقت آپ کا یہ سب کچھ اﷲ ہی کے لیے ہے تو آپ اﷲ کا رنگ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ نماز میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے کہ ہر حرکت سے پہلے اﷲ کا نام یوں لیا جاتا ہے گویا ہر جنبش اﷲ سے پوچھ کر کی جا رہی ہو۔

روز مرہ زندگی میں، نماز جیسی اﷲ کے رنگ میں رنگی مطابقت استوار رکھنے کے لیے خاتم النبیین رسول کریم ﷺ نے ہمیں ماشاء اﷲ، ان شاء اﷲ، الحمد اﷲ، سبحان اﷲ، انا ﷲ و انا الیہ راجعون، وغیرہ جیسے کلمات سکھائے ہیں۔ ہر کام سے پہلے بسم اﷲ الرحمن الرحیم کی آیت پڑھنا بھی اﷲ کے رنگ میں رنگ جانے کے لیے ہی ہے۔ ملاقات پر اسلام علیکم و رحمۃ اﷲ کہہ کر اﷲ تعالی کی رحمت کے ساتھ اﷲ کی یاد کرائی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ہم پر انفرادی و اجتماعی طور پر، اﷲ کا رنگ غالب رہے۔

ہماری روحانی شخصیت کی خوب صورتی اﷲ کی ذات کے لیے کیے گئے اعمال سے ہے۔

حضرت ابُوہریرہ ؓ سے مروی ہے: ’’آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ بہت سے روزہ داروں کو بھوک کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے قیام کرنے والوں کو جاگنے کے علاوہ کچھ وصول نہیں ہوتا۔‘‘

اس حدیث پر غور کریں کہ اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہوسکتی ہے کہ ایسے روزے میں اور ایسے جاگنے میں، اﷲ کا رنگ شامل نہیں ہُوا ہوگا۔ حضرت نوحؑ کے بیٹے کی زندگی اﷲ کے رنگ سے خالی تھی۔ اس نے سیلابی پانی سے بچنے کے لیے اﷲ کے سوا پہاڑ کو سہارا قرار دیا۔ یوں اس کی روحانی شخصیت ناشائستہ اعمال ٹھہری۔

ہمارے اعمال کی شکل میں، ہماری روحانی شخصیت اﷲ کے ہاں ایک روپ دھارتی ہے۔ جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کیا تو اﷲ تعالی کو اس کے کھانا پینا چھوڑ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔

نبی کریم ﷺ کا ارشاد کا مفہوم ہے کہ روزہ ڈھال ہے۔ روزہ شیطانی حملوں سے روکتا ہے۔ شیطانی حملوں کا دائرہ ہماری زندگی میں ہمیں اﷲ کا رنگ اختیار کرنے سے روکنے تک پھیلا ہوا ہے۔ اگر چھوٹی چھوٹی چیزوں اور باتوں میں بھی ہم اﷲ کے رنگ میں رنگتے چلے جائیں تو ہم شیطان کے اس ہتھ کنڈے سے محفوظ ہوجائیں گے۔ اسی لیے ابلیس انسانی زندگی میں، اﷲ کے ایسے رنگ چڑھنے کو ہر ممکن حد تک روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد تو یہاں تک ہے کہ اگر جوتے کا تسمہ بھی درکار ہو تو اﷲ سے مانگو۔ حضرت رسول کریم ﷺ اﷲ کے رنگ میں کامل رنگے ہوئے تھے۔

فی زمانہ جو دنیاوی حالات ہیں، اس اعتبار سے دنیا میں شمولیت، مادے اور اس سے متعلق مہارتوں کے حصول سے عبارت ہو چکی ہے۔ نوحؑ کے بیٹے کی طرح مادی سہاروں پر انحصار شعوری سطح پر کیا جانے لگا ہے۔ آج کے انسان کو، مادے اور اس سے متعلق مہارتوں پر دست رس کے لیے اپنے سال ہا سال کھپانے پڑتے ہیں۔ ان مہارتوں میں ڈوبنا پڑتا ہے تب کہیں اسے مہارت ملتی ہے۔ یوں آج ہم میں سے اکثر کے پاس اﷲ کی نشانیوں پر غور کا وقت نہیں۔ ماضی کے انسان نے اپنی کم زوریوں کے باعث مادے اور مادی قوتوں کو خدا بنایا، آج ان پر قدرے قابو پاکر انسان نے اپنی صلاحیت کو خدا بنا لیا ہے۔ انسان تب بھی غلطی پر تھا، آج بھی غلطی پر ہے۔

روحانیت میں فروغ کے لیے مادے اور متعلقہ صلاحیتوں کے حصول اور برتنے کے تناظر میں اﷲ کی ذات کو، پس منظر اور پیش منظر میں رکھنا پڑتا ہے۔ یہیں سے ہمیں شیطان ورغلانے میں کام یاب ہوجاتا ہے اور مادے اور اس سے متعلق مہارتوں کے حصول کے تناظر میں، ہم پر اﷲ کا رنگ چڑھ نہیں پاتا۔ یوں ہمارا پڑھنا، لکھنا، کھانا، پینا اور دیگر امور روحانیت سے خالی رہتے ہیں۔ روزہ اس رنگ میں رنگے جانے کی ایک کام یاب ابتداء اس طرح بنتا ہے کہ روزے کی حالت میں ہم ہر ایسے کام کو اﷲ کی کسوٹی پر پرکھنے پر مجبور ہوتے ہیں ورنہ روزہ شرف ِ قبولیت کیسے پا سکتا ہے۔

روزہ مادے اور اس سے جڑی مہارتوں کے برتنے کو کم سے کم سطح پر رکھنے کی بھی مشق کرواتا ہے تاکہ اﷲ کی نشانیوں پر غور کا وقت نکل پائے۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ شدید گرمی، پیاس اور بھوک کئی ایک کام نہ کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یوں ہم اس احساس کے ساتھ اﷲ کا رنگ اختیار کرنے کے لیے معاشرے کے بعض ان افراد کے متعلق بھی سوچتے ہیں کہ جو عدم ِ رمضان میں بھی مادے اور اس سے متعلق مہارتوں کی کم سے کم سطح سے بعض اوقات محروم ہوتے ہوئے بھی زندگی میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔

روحانی سطح پر روزہ باور کراتا ہے کہ آپ اﷲ کے مقابلے میں دنیاوی حدود میں کس قدر تجاوز کرچکے ہیں۔ ہر بندے میں تجاوز کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔ ایک بزرگ کا قصہ ہے کہ انہوں نے اﷲ سے پائوں میں جوتے نہ ہونے کا شکوہ کیا۔ کچھ آگے گئے تو اﷲ نے ایک معذور شخص کو زمین پر گھسٹتے اور رینگتے دکھا کر شکر میں آزما لیا۔ اس پر وہ اﷲ کے شکر گزار ہوئے کہ اﷲ نے پائوں تو سلامت دے رکھے ہیں۔

اسی طرح ہم میں سے کسی کو خواہشات کا روزہ درکار ہے تو، کسی کو آنکھ کا، کسی کو کان کا اور کسی کو زبان کا۔

حضرت معاذ ؓ سے ابن ماجہ میں مروی ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا: ’’اس کو روک رکھو۔ میں نے عرض کیا: اے اﷲ کے نبی ﷺ! جو گفت گو ہم عام طور پر کرتے ہیں کیا اس پر بھی مواخذہ ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اے معاذ! لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ گرانے کا باعث صرف ان کی زبان کی کھیتیاں (غیبت، بہتان، گالیوں بھری باتیں) ہی تو ہوں گی۔‘‘

قبر میں پیش آنے والے سوالات ہوں یا پل صراط جیسی آزمائش، یہاں وہی کام یاب ہوں گے جن کی شخصیت پر اﷲ کا جگ مگاتا رنگ چڑھا ہوا ہو۔ آپ کی قبر کے اندھیروں کو اﷲ کا یہی رنگ جگ مگانے کی مسلمہ ضمانت ہے۔ سنن نسائی کی حدیث ﷺ کے مطابق ایک دن کا روزہ جہنم سے ستّر سال کی دوری کا باعث بن جاتا ہے۔ آپ ﷺ کے مطابق اﷲ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے تو اس کا بدلہ بھی پھر میں ہی دوں گا۔

اب کیا ہم اس بادشاہ ِ بے مثال کی عطا بے بہا سنبھال پائیں گے۔۔۔۔ ؟ جب عطا بڑی تو عمل بھی بڑا، عمل بڑا وہ جو اﷲ کے رنگ میں رنگا ہوا ہو۔ اس رمضان میں، جناب رسول اکرم ﷺ کی پیروی میں، اپنے ہر لمحے کو اﷲ کے رنگ میں رنگ دیجیے، یوں آمد ِ رمضان مبارک ٹھہری! خوش آمدید رمضان کریم

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مادے اور اس سے متعلق مہارتوں اﷲ کے رنگ میں رنگ اﷲ کا رنگ اختیار زندگی میں کرتے ہیں ہے کہ ا کسی کو کے لیے

پڑھیں:

امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز

امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔

نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔

پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کی

امریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔

Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9

— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026

ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔

نمائش 5 روز تک جاری رہے گی

‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔

امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔

امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زور

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔

أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.

شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu

— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔

لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔

ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زور

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔

امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔

اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم

متعلقہ مضامین

  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ