اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزارتِ خزانہ کی ڈپٹی سیکرٹری محترمہ عائشہ جاوید کو عالمی شہرت یافتہ اشاعتی ادارے راؤٹلیج (Routledge) کی کتاب “Women in Public Finance: Stories of Gender in Budgeting” میں بطور مصنفہ شامل کیے جانے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے محترمہ عائشہ جاوید کی اس شاندار کامیابی کو پاکستان کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تحریر کردہ باب “Limitless Skies and Endless Dreams” ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، محنت اور عوامی مالیات، پالیسی سازی اور صنفی حساس بجٹ سازی (Gender-Responsive Budgeting) کے شعبوں میں پاکستانی خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔

مزیدپڑھیں:میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستانی خواتین کی کامیابیاں نہ صرف ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرتی ہیں بلکہ پاکستان کے سرکاری شعبے سے وابستہ افسران کی غیر معمولی صلاحیتوں، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کا بھی ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اعزازات بالخصوص نوجوان خواتین کے لیے باعثِ تحریک ہیں اور انہیں قومی ترقی اور عوامی خدمت میں مؤثر کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین کی بااختیار شرکت، قیادت اور پیشہ ورانہ ترقی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ، مساوی مواقع اور شمولیتی ماحول ہی مؤثر طرزِ حکمرانی اور پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کہا کہ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • متنازع اے این ایف بھرتی اشتہار کی معطلی کی درخواست پر عدالت کا تحریری حکم نامہ جاری
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کردیا گیا
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن