’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 15 روز تک پٹرول پمپوں کی ہڑتال کی کال واپس لے لی جس کے بعد پٹرول پمپس کھل گئے ہیں۔
نجی چینل کے مطابق پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یومیہ تبدیلی کے نظام میں نظرثانی پر آمادہ ہو گئی ہے۔
پٹرولیم ڈیلرز کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے یومیہ رد وبدل کا طریقہ کار فی الحال روکا جا رہا ہے جب کہ حکومت پرافٹ مارجن پر سمری بھی 15 روز میں جاری کرے گی۔
پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر ہمایوں خان نے کہا کہ حکومت کے شکر گزار ہیں انہوں نے ہماری مشکلات کو سمجھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ہمارے جائز مطالبات پر آمادگی کے بعد 15 روز تک شٹ ڈاؤن کی کال واپس لیتے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یومیہ ردو بدل کو مسترد کرتے ہوئے پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں ہڑتال کی کال دی تھی، جس کے بعد کل سے پٹرول پمپس بند کر دیے گئے تھے۔
مزید پڑھیں۔حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔