طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2026 GMT
یونان سے سامنے آنے والی نئی تصویر کے بعد قیاس آرائیوں کی شدت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
آرٹ کیوریٹر الیکی لیمپروپولوس کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصویر میں شہزادی بیٹریس اور ان کے شوہر ایڈوارڈو میپیلی موزی کو یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں دیکھا جا سکتا ہے۔
شہزادی بیٹریس اور ایڈوارڈو میپیلی موزی کی پہلی ملاقات 2018 میں ہوئی تھی۔ دونوں نے ستمبر 2019 میں منگنی کی اور مئی 2020 میں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔
شادی کے بعد شہزادی بیٹریس، ایڈوارڈو کے پہلے بیٹے کرسٹوفر وولف کی سوتیلی والدہ بھی بنیں۔ بعد ازاں ستمبر 2021 میں ان کے ہاں بیٹی سینا الزبتھ میپیلی موزی کی پیدائش ہوئی، جبکہ جنوری 2025 میں دوسری بیٹی ایتھینا الزبتھ روز میپیلی موزی نے جنم لیا۔
واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ ایڈوارڈو اپنے سسرالی معاملات کے ممکنہ اثرات کے باعث اپنی کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے پریشان ہیں، جس سے ان کی ازدواجی زندگی سے متعلق قیاس آرائیوں نے جنم لیا۔
بعد ازاں اپریل 2026 میں ایڈوارڈو کے والد الیساندرو میپیلی موزی نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بارے میں ان کے بیٹے سے ہی بات کی جائے۔
اس کے علاوہ رواں سال دونوں کی جانب سے شادی کی سالگرہ پر روایتی سوشل میڈیا پوسٹس نہ کرنے کے باعث بھی ان کی علیحدگی سے متعلق افواہیں زور پکڑ گئی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شہزادی بیٹریس
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت