اپوزیشن کا پارلیمنٹ ہاؤس دھرنا ختم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
اپوزیشن نے پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا، علامہ ناصر عباس کے مطابق رمضان کے باعث دھرنا ختم کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ رمضان شروع ہو رہا ہے اس لیے دھرنا ختم کر رہے ہیں، جلد اگلا لائحہ عمل طے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے صحت سے متعلق خدشات موجود ہیں اور ان کا علاج شفا انٹرنیشنل اسپتال میں ہونا چاہیے، بہنوں اور ڈاکٹرز سے ملاقات کرائی جائے تاکہ وہ مطمئن ہوسکیں۔
سپریم کورٹ کے باہر گفت گو میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عوام نے خود دھرنا دیا اور پشاور ہائیکورٹ کے احکامات کا احترام کیا گیا، تاہم قیادت کے اعلان پر اب دھرنا ختم کیا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے فورس بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عید کے بعد ممبران سے پشاور میں حلف لوں گا، ایک کال دیں گے تو سب میرے ساتھ ہوں گے، پہلے تیاری ہوگی پھر لڑائی ہوگی، جیت حق اور سچ کی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔