فضائی آلودگی الزائمر کے خطرے میں نمایاں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، نئی تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ فضائی آلودگی میں مسلسل رہنے والے افراد میں دماغی بیماری الزائمر لاحق ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے اور یہ خطرہ خاص طور پر بزرگ افراد میں زیادہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔ یہ انکشاف ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے جس میں لاکھوں افراد کے طویل المدتی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
سائنسی جریدے پلوس میڈیسن میں شائع تحقیق کے مطابق الزائمر، جو دماغی تنزلی کی بیماری ڈیمینشیا کی سب سے عام قسم ہے، دنیا بھر میں تقریباً پانچ کروڑ ستر لاکھ افراد کو متاثر کر چکی ہے۔ محققین نے سن دو ہزار سے سن دو ہزار اٹھارہ تک پینسٹھ برس یا اس سے زائد عمر کے ڈھائی کروڑ سے زیادہ افراد کے طبی اور ماحولیاتی ڈیٹا کا جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ فضائی آلودگی دماغی صحت پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔
تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ ایسے افراد جو زیادہ آلودہ علاقوں میں رہتے ہیں، ان میں الزائمر کا خطرہ نسبتاً صاف ماحول میں رہنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ وہ لوگ جو پہلے فالج کا سامنا کر چکے ہوں، ان میں آلودگی کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر اور ڈپریشن جیسے عوامل بھی معمولی حد تک خطرے میں اضافہ کرتے ہیں، تاہم بنیادی کردار فضائی آلودگی کا ہی پایا گیا۔
محققین کے مطابق آلودہ فضا میں موجود باریک ذرات سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر خون کے ذریعے دماغ تک پہنچ سکتے ہیں، جہاں وہ اعصابی خلیات کو متاثر کرتے اور سوزش پیدا کرتے ہیں، جو وقت کے ساتھ دماغی تنزلی کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ فضائی معیار کو بہتر بنانے کے لیے حکومتی سطح پر مؤثر اقدامات نہ صرف سانس اور دل کے امراض بلکہ دماغی بیماریوں کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ نتائج اس بات کا واضح اشارہ دیتے ہیں کہ ماحولیاتی آلودگی صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی صحت کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے، اس لیے شہری منصوبہ بندی، ٹریفک کنٹرول اور صنعتی اخراج میں کمی جیسے اقدامات فوری طور پر ناگزیر ہو چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فضائی آلودگی
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔