data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ فضائی آلودگی میں مسلسل رہنے والے افراد میں دماغی بیماری الزائمر لاحق ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے اور یہ خطرہ خاص طور پر بزرگ افراد میں زیادہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔ یہ انکشاف ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے جس میں لاکھوں افراد کے طویل المدتی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

سائنسی جریدے پلوس میڈیسن میں شائع تحقیق کے مطابق الزائمر، جو دماغی تنزلی کی بیماری ڈیمینشیا کی سب سے عام قسم ہے، دنیا بھر میں تقریباً پانچ کروڑ ستر لاکھ افراد کو متاثر کر چکی ہے۔ محققین نے سن دو ہزار سے سن دو ہزار اٹھارہ تک پینسٹھ برس یا اس سے زائد عمر کے ڈھائی کروڑ سے زیادہ افراد کے طبی اور ماحولیاتی ڈیٹا کا جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ فضائی آلودگی دماغی صحت پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔

تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ ایسے افراد جو زیادہ آلودہ علاقوں میں رہتے ہیں، ان میں الزائمر کا خطرہ نسبتاً صاف ماحول میں رہنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ وہ لوگ جو پہلے فالج کا سامنا کر چکے ہوں، ان میں آلودگی کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر اور ڈپریشن جیسے عوامل بھی معمولی حد تک خطرے میں اضافہ کرتے ہیں، تاہم بنیادی کردار فضائی آلودگی کا ہی پایا گیا۔

محققین کے مطابق آلودہ فضا میں موجود باریک ذرات سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر خون کے ذریعے دماغ تک پہنچ سکتے ہیں، جہاں وہ اعصابی خلیات کو متاثر کرتے اور سوزش پیدا کرتے ہیں، جو وقت کے ساتھ دماغی تنزلی کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ فضائی معیار کو بہتر بنانے کے لیے حکومتی سطح پر مؤثر اقدامات نہ صرف سانس اور دل کے امراض بلکہ دماغی بیماریوں کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ نتائج اس بات کا واضح اشارہ دیتے ہیں کہ ماحولیاتی آلودگی صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی صحت کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے، اس لیے شہری منصوبہ بندی، ٹریفک کنٹرول اور صنعتی اخراج میں کمی جیسے اقدامات فوری طور پر ناگزیر ہو چکے ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فضائی آلودگی

پڑھیں:

چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت

دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139  نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ