چینی روبوٹ کو بھارتی ایجاد بتا کر پیش کرنے کا تنازع، گلگوتیاس یونیورسٹی نے معافی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
گڑھی نوئیڈا میں قائم گلگوتیاس یونیورسٹی نے اے آئی سمٹ میں چینی ساختہ ربوٹک ڈاگ کو اپنی ایجاد کے طور پر پیش کرنے کے تنازع کے بعد معافی مانگ لی ہے۔
رواں ہفتے اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران یونیورسٹی کی پروفیسر نیہا سنگھ نے ریاستی نشریاتی ادارے کو بتایا تھا کہ نمائش میں رکھا گیا روبوٹک ڈاگ ‘اورین’ گلگوتیاس یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلنس میں تیار کیا گیا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر صارفین نے فوری طور پر اسے چینی کمپنی یونٹری روبوٹکس کی تیار کردہ یونٹری گو 2 پہچان لیا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی روبوٹ کو اپنی ایجاد ظاہر کرنے پر بھارتی کمپنی کی عالمی سطح پر سُبکی
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سمٹ کے منتظمین نے یونیورسٹی سے اپنی نمائش کا اسٹال خالی کرنے کا حکم دیا۔
pic.
— Galgotias University (@GalgotiasGU) February 18, 2026
یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان میں اس واقعے کی ذمہ داری نیہا سنگھ پر ڈالی گئی اور کہا گیا کہ وہ معلومات سے آگاہ نہیں تھیں، یونیورسٹی نے مزید کہا کہ پروڈکٹ کے تکنیکی پس منظر سے وہ واقف نہیں تھیں اور کیمرے پر پہنچنے کے جوش میں حقیقت کے منافی معلومات دی گئیں۔
گلگوتیاس یونیورسٹی نے اس تنازع میں کسی بھی ادارتی نیت سے غلط تاثر دینے سے انکار کرتے ہوئے عوام سے سمجھ بوجھ کی اپیل کی۔ یونیورسٹی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ منتظمین کی تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے نمائش کی جگہ خالی کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویب سمٹ میں چینی روبوٹ نے دھوم مچا دی
نیہا سنگھ نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس غلط فہمی کی وجہ غیر واضح کمیونیکیشن تھی اور یونیورسٹی نے کبھی بھی روبوٹ کی تیاری کا دعویٰ نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے طلبہ کو یہ روبوٹ دکھایا تاکہ وہ خود کچھ بہتر تخلیق کرنے کی ترغیب حاصل کریں۔
اس تنازع کے بعد گلگوتیاس یونیورسٹی کا اسٹال سمٹ میں خالی دکھائی دیا، جبکہ کچھ طلبہ وہاں موجود رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت بھارتی یونیورسٹی چین روبوٹ گلگوتیاس یونیورسٹی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت بھارتی یونیورسٹی چین روبوٹ یونیورسٹی نے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔