خانہ فرہنگ ایران کراچی میں انقلابِ اسلامی کی 47ویں سالگرہ کی پُروقار تقریب، ویڈیو
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: پروگرام میں 120 پاکستانی شعراء کے کلام اور اس کے فارسی تراجم پر مشتمل کتاب ’’ندائے استقامت‘‘ کی رونمائی عمل میں آئی، جو فلسطین و لبنان کی مزاحمت سے اظہارِ یکجہتی کا ادبی مظہر ہے اور ایران و پاکستان کے ثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی علامت ہے۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: سید ظفر جعفری
شہر قائد میں خانۂ فرہنگِ جمہوریۂ اسلامی ایران کے زیرِ اہتمام انقلابِ اسلامی ایران کی 47ویں سالگرہ نہایت وقار اور شان و شوکت کے ساتھ منائی گئی، جس میں شہرِ کراچی سمیت ملک بھر سے تعلق رکھنے والی تین سو سے زائد ممتاز علمی، ادبی، مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور قومی ترانوں سے ہوا۔ تقریب میں ڈائریکٹر جنرل خانۂ فرہنگ ڈاکٹر سعید طالبی نیا، مہمانِ خصوصی یوسف بشیر قریشی، علامہ سید حسن ظفر نقوی، معروف شاعر ڈاکٹر جاوید منظر نے خطاب کیا۔ تقریب میں نظامت کے فرائض معروف اینکرپرسن آغا شیرازی نے انجام دیئے۔ جس کے بعد ڈائریکٹر جنرل خانۂ فرہنگ ڈاکٹر سعید طالبی نیا نے اپنے جامع خطاب میں بانی انقاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ کی انقلابی بصیرت، رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کی قیادت، مزاحمت کے تسلسل اور ظلم و استکبار کے خلاف استقامت کے پیغام کو اجاگر کیا۔ تقریب میں معروف شاعر ڈاکٹر جاوید منظر نے فلسطین اور لبنان کی مزاحمت کے حق میں پُراثر مناجات پیش کی۔
مہمانِ خصوصی یوسف بشیر قریشی نے ایران کے اپنے روحانی و ثقافتی تجربات بیان کرتے ہوئے ایرانی قوم کی خود انحصاری، شہداء سے وابستگی، اخلاقی اقدار اور مہمان نوازی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ صدرِ محفل علامہ سید حسن ظفر نقوی نے انقلابِ اسلامی کو ایک تناور درخت قرار دیتے ہوئے اسے امتِ مسلمہ کی بیداری اور مظلوم اقوام کی امید سے تعبیر کیا۔ اس تقریب میں مختلف مکاتبِ فکر کے علما، ذاکرین، وکلا، اساتذۂ جامعات، سفارتی نمائندگان، شعرا، ادبا، فنکار، سیاسی قائدین اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی شرکت نے بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کی عملی تصویر پیش کی۔
پروگرام کے آخری مرحلے میں 120 پاکستانی شعراء کے کلام اور اس کے فارسی تراجم پر مشتمل کتاب ’’ندائے استقامت‘‘ کی رونمائی عمل میں آئی، جو فلسطین و لبنان کی مزاحمت سے اظہارِ یکجہتی کا ادبی مظہر ہے اور ایران و پاکستان کے ثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی علامت ہے۔ تقریب کا اختتام پرتکلف عشائیے، گروپ فوٹو سیشن، میڈیا انٹرویوز اور مہمانانِ گرامی میں کتابوں کی تقسیم کے ساتھ ہوا۔ مجموعی طور پر یہ تقریب کراچی میں ثقافتی و فکری سرگرمیوں کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی، جسے عوام اور معزز مہمانوں نے بھرپور پذیرائی دی اور جس نے اتحاد، مزاحمت اور ادبی یکجہتی کے پیغام کو مؤثر انداز میں عام کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔