پاکستانی فری لانسرز ایک ارب ڈالر برآمدی کلب میں شامل ہونے کے قریب
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ملک میں فری لانسنگ کے شعبے نے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے معیشت کے لیے اہم ستون کی حیثیت اختیار کرلی ہے اور اندازہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستانی فری لانسرز ایک ارب ڈالر کے برآمدی کلب میں شامل ہو جائیں گے جو ڈیجیٹل معیشت کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
Pakistan Freelancers Association کے بانی چیئرمین ابراہیم امین کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے تقریباً 70 کروڑ ڈالر زرمبادلہ کمایا تھا جبکہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں ہی یہ آمدنی 55 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، موجودہ رفتار برقرار رہی تو سال کے اختتام تک مجموعی آمدنی ایک ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ابراہیم امین نے نشاندہی کی کہ فری لانسرز کو بیرون ملک سے رقوم کی ترسیل میں عملی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ گزشتہ ایک دہائی سے ایک ہی غیر ملکی مالیاتی ادارہ زیادہ تر خدمات فراہم کر رہا ہے،محدود آپشنز کی وجہ سے فیس، تاخیر اور تکنیکی مسائل جیسے چیلنجز سامنے آتے ہیں، جس سے فری لانسرز کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور مالیاتی ادارے مل کر نئے عالمی شراکت دار تلاش کریں تاکہ ادائیگیوں کا نظام آسان اور مؤثر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح حکومت بڑے برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، اسی طرح فری لانسرز کو بھی قومی برآمدی شعبے کا حصہ تسلیم کرتے ہوئے مراعات اور سہولتیں دی جانی چاہئیں، جدید عالمی ٹیکنالوجی سے آگاہی، بین الاقوامی کانفرنسز اور نمائشوں میں شرکت کے مواقع، اور خدمات کی مؤثر مارکیٹنگ سے متعلق تربیت فری لانسرز کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔
ایسوسی ایشن نے زور دیا کہ حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے ذریعے فری لانسرز کو انفرادی حیثیت سے آگے بڑھا کر کمپنیوں کی شکل اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے، تاکہ وہ عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی انداز میں خدمات فراہم کر سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فری لانسرز
پڑھیں:
عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار لے گیا۔
پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب مقبوضہ بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔