data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: ملک میں فری لانسنگ کے شعبے نے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے معیشت کے لیے اہم ستون کی حیثیت اختیار کرلی ہے اور اندازہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستانی فری لانسرز ایک ارب ڈالر کے برآمدی کلب میں شامل ہو جائیں گے جو ڈیجیٹل معیشت کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

Pakistan Freelancers Association کے بانی چیئرمین ابراہیم امین کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے تقریباً 70 کروڑ ڈالر زرمبادلہ کمایا تھا جبکہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں ہی یہ آمدنی 55 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، موجودہ رفتار برقرار رہی تو سال کے اختتام تک مجموعی آمدنی ایک ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

ابراہیم امین نے نشاندہی کی کہ فری لانسرز کو بیرون ملک سے رقوم کی ترسیل میں عملی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ گزشتہ ایک دہائی سے ایک ہی غیر ملکی مالیاتی ادارہ زیادہ تر خدمات فراہم کر رہا ہے،محدود آپشنز کی وجہ سے فیس، تاخیر اور تکنیکی مسائل جیسے چیلنجز سامنے آتے ہیں، جس سے فری لانسرز کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور مالیاتی ادارے مل کر نئے عالمی شراکت دار تلاش کریں تاکہ ادائیگیوں کا نظام آسان اور مؤثر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح حکومت بڑے برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، اسی طرح فری لانسرز کو بھی قومی برآمدی شعبے کا حصہ تسلیم کرتے ہوئے مراعات اور سہولتیں دی جانی چاہئیں، جدید عالمی ٹیکنالوجی سے آگاہی، بین الاقوامی کانفرنسز اور نمائشوں میں شرکت کے مواقع، اور خدمات کی مؤثر مارکیٹنگ سے متعلق تربیت فری لانسرز کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔

ایسوسی ایشن نے زور دیا کہ حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے ذریعے فری لانسرز کو انفرادی حیثیت سے آگے بڑھا کر کمپنیوں کی شکل اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے، تاکہ وہ عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی انداز میں خدمات فراہم کر سکیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فری لانسرز

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا