وادی تیراہ کے علاقے میدان سے نقل مکانی کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
ضلعی انتظامیہ کے مطابق پہلے مرحلے کے دوران علاقہ میدان سے مجموعی طور پر 30 ہزار 945 خاندانوں نے نقل مکانی کی، اس مرحلے میں متاثرہ خاندانوں کی رجسٹریشن مکمل کی گئی اور انہیں گاڑی کے کرائے کی مد میں ادائیگیاں کی گئیں تاکہ محفوظ نقل مکانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ ضلع خیبر کی وادی تیراہ کے علاقے میدان سے نقل مکانی کرنے والے متاثرہ خاندانوں کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ نے پہلے مرحلے کی تکمیل اور دوسرے مرحلے کے باقاعدہ آغاز کی تصدیق کردی۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق پہلے مرحلے کے دوران علاقہ میدان سے مجموعی طور پر 30 ہزار 945 خاندانوں نے نقل مکانی کی، اس مرحلے میں متاثرہ خاندانوں کی رجسٹریشن مکمل کی گئی اور انہیں گاڑی کے کرائے کی مد میں ادائیگیاں کی گئیں تاکہ محفوظ نقل مکانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکام نے بتایا کہ 12 فروری سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی اسکروٹنی اور دوبارہ تصدیق کا عمل شروع کیا گیا جو 16 فروری تک جاری رہا، اس عمل کا مقصد امدادی رقوم کی منصفانہ تقسیم، ڈیٹا کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانا تھا۔
ضلعی انتظامیہ کے حکام نے مزید بتایا کہ نقل مکانی کا دوسرا مرحلہ گزشتہ روز شروع کردیا گیا ہے جس کے تحت مالی امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک ایک ہزار 978 خاندانوں کو موبائل سم کے ذریعے فی خاندان ڈھائی لاکھ روپے فراہم کیے جا چکے ہیں جب کہ باقی متاثرین کو بھی مرحلہ وار امدادی رقوم ادا کی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق میدان سے نقل مکانی کا سلسلہ 10 جنوری سے شروع ہو کر 11 فروری تک جاری رہا جب کہ دوسرے مرحلے میں خصوصی توجہ مالی معاونت کی بروقت ادائیگی اور مستحق خاندانوں کی مکمل تصدیق پر مرکوز ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ضلعی انتظامیہ سے نقل مکانی خاندانوں کی
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔