وادی تیراہ کے علاقے میدان سے نقل مکانی کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
ضلعی انتظامیہ کے مطابق پہلے مرحلے کے دوران علاقہ میدان سے مجموعی طور پر 30 ہزار 945 خاندانوں نے نقل مکانی کی، اس مرحلے میں متاثرہ خاندانوں کی رجسٹریشن مکمل کی گئی اور انہیں گاڑی کے کرائے کی مد میں ادائیگیاں کی گئیں تاکہ محفوظ نقل مکانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ ضلع خیبر کی وادی تیراہ کے علاقے میدان سے نقل مکانی کرنے والے متاثرہ خاندانوں کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ نے پہلے مرحلے کی تکمیل اور دوسرے مرحلے کے باقاعدہ آغاز کی تصدیق کردی۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق پہلے مرحلے کے دوران علاقہ میدان سے مجموعی طور پر 30 ہزار 945 خاندانوں نے نقل مکانی کی، اس مرحلے میں متاثرہ خاندانوں کی رجسٹریشن مکمل کی گئی اور انہیں گاڑی کے کرائے کی مد میں ادائیگیاں کی گئیں تاکہ محفوظ نقل مکانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکام نے بتایا کہ 12 فروری سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی اسکروٹنی اور دوبارہ تصدیق کا عمل شروع کیا گیا جو 16 فروری تک جاری رہا، اس عمل کا مقصد امدادی رقوم کی منصفانہ تقسیم، ڈیٹا کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانا تھا۔
ضلعی انتظامیہ کے حکام نے مزید بتایا کہ نقل مکانی کا دوسرا مرحلہ گزشتہ روز شروع کردیا گیا ہے جس کے تحت مالی امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک ایک ہزار 978 خاندانوں کو موبائل سم کے ذریعے فی خاندان ڈھائی لاکھ روپے فراہم کیے جا چکے ہیں جب کہ باقی متاثرین کو بھی مرحلہ وار امدادی رقوم ادا کی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق میدان سے نقل مکانی کا سلسلہ 10 جنوری سے شروع ہو کر 11 فروری تک جاری رہا جب کہ دوسرے مرحلے میں خصوصی توجہ مالی معاونت کی بروقت ادائیگی اور مستحق خاندانوں کی مکمل تصدیق پر مرکوز ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ضلعی انتظامیہ سے نقل مکانی خاندانوں کی
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔