جدہ ایئرپورٹس کمپنی نے رمضان المبارک کے دوران عمرہ زائرین کے غیر معمولی رش سے نمٹنے کے لیے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے 1447 ہجری کے عمرہ پیک سیزن کا جامع آپریشنل پلان منظور کر لیا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد زائرین کو محفوظ، منظم اور سہل سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک اقتصادی معاہدے کی تیاری میں ہے، سعودی سفیر

کمپنی کے مطابق منصوبے کے تحت ایئرپورٹ کے تین مرکزی ٹرمینلز کو فعال رکھا جائے گا، جن میں حج و عمرہ ٹرمینل کمپلیکس، ٹرمینل ون اور نارتھ ٹرمینل شامل ہیں۔ مسافروں کے دباؤ کو کم کرنے اور انتظار کا وقت گھٹانے کے لیے 407 بیگیج چیک اِن کاؤنٹرز اور 463 پاسپورٹ کنٹرول کاؤنٹرز استعمال کیے جائیں گے۔

اسی طرح آپریشنل روانی برقرار رکھنے کے لیے 56 مسافر بورڈنگ برجز، 35 بیگیج کلیم بیلٹس اور 81 کسٹمز انسپیکشن ڈیوائسز بھی فعال رہیں گی، تاکہ آمد و روانگی کے مراحل تیزی اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:جنوری میں 3 ارب 46 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر موصول، سعودی عرب پہلے نمبر پر رہا

انتظامیہ کے مطابق صحت اور فلاحی سہولیات میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ایئرپورٹ کے اندر چار ہیلتھ سینٹرز کام کریں گے، جبکہ زائرین کے استقبال اور بہتر نظم و ضبط کے لیے تین استقبالیہ لاؤنجز مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حج و عمرہ ٹرمینل کے عوامی حصے میں 20 ائیرکنڈیشنڈ آرام گاہیں قائم کی گئی ہیں تاکہ مسافروں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔

عملی اقدامات کو مؤثر بنانے کے لیے افرادی قوت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ پیک سیزن کے دوران مختلف سرکاری، آپریشنل اور سیکیورٹی اداروں کے مجموعی طور پر 10 ہزار سے زائد اہلکار چوبیس گھنٹے مربوط نظام کے تحت خدمات انجام دیں گے۔

اعلامیے کے مطابق 1447ھ کے عمرہ سیزن میں زائرین کی آمد کا سلسلہ 3 اپریل 2026 تک جاری رہے گا، جبکہ عمرہ ویزہ رکھنے والوں کی آخری روانگی کی تاریخ 18 اپریل 2026 مقرر کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جدہ ایئر پورٹ عمرہ سیزن کنگ عبدالعزیز ایئر پورٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جدہ ایئر پورٹ کنگ عبدالعزیز ایئر پورٹ کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل