جماعت اسلامی بنگلادیش کا قومی انتخابات کے نتائج قبول کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
بنگلا دیش جماعت اسلامی نے 13 ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے نتائج قبول کرتے ہوئے ایک ذمہ دار اپوزیشن کے طور پر کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ڈھاکا ٹریبیون کے مطابق امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم مجموعی نتائج قبول کرتے ہیں اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہیں، جماعت اسلامی ہمیشہ مستحکم اور مؤثر جمہوری نظام کے لیے پرعزم رہی ہے اور وہ اس موقف پر قائم ہے۔
انہوں نے پارٹی کے رضاکاروں اور حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بعض افراد مایوس ہو سکتے ہیں مگر ان کی کوششیں رائیگاں نہیں گئیں، کیونکہ 77 نشستوں پر کامیابی نے پارٹی کی پارلیمنٹ میں موجودگی کو تقریباً چار گنا بڑھا دیا ہے اور اسے مضبوط اپوزیشن کی قوت بنایا ہے، یہ شکست نہیں بلکہ بنیاد ہے۔
ڈاکٹر شفیق الرحمن نے یہ بھی کہا کہ سیاسی تقدیر بدل سکتی ہے، جیسا کہ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی 2008 میں صرف 30 نشستوں تک محدود رہی لیکن بعد میں 18 سال بعد حکومت بنائی۔ جمہوری سیاست ایک طویل سفر ہے جس کا مقصد عوام کا اعتماد حاصل کرنا، جواب دہی کو یقینی بنانا اور مستقبل کے لیے ذمہ داری سے تیاری کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قیادت کا اصل امتحان صرف انتخابات میں حصہ لینے میں نہیں بلکہ عوام کے فیصلے کو قبول کرنے میں بھی ہوتا ہے۔ جماعت کی تحریک صرف ایک انتخابات کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت کو مضبوط بنانے، شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے اور ایک جواب دہ ریاست بنانے کے لیے ہے، اور جماعت اصولی اور پرامن اپوزیشن کے طور پر قومی ترقی کے لیے کام کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی