Express News:
2026-07-24@00:44:22 GMT

نیٹ میٹرنگ کی قید

اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT

لگ بھگ ایک سال سے کھسر پھسر شروع تھی کہ نیٹ میٹرنگ کا بوجھ پاور سیکٹر پر بہت بھاری پڑ رہا ہے۔ دھیرے دھیرے یہ سرگوشیاں حکومتی دہائیوں میں بدل گئیں۔

صارفین کا مزاج جانچنے کے لیے گزشتہ چند مہینوں میں کئی پالیسی ’’فیلر‘‘ چھوڑے گئے۔ شور مچا تو جواب آیا، صاحبو یہ تو نئے سولر کنٹریکٹس کے لیے ہے۔

پہلے سے جاری کنٹریکٹس کی پاسداری کریں گے… لیکن کیا کیجیے فنانس کی بے رحمیوں نے مروت کا یہ بھرم اتارنے پر مجبور کر دیا۔ نیپرا ،جس پر خودمختاری کی تہمت ہے، کے ذریعے نیٹ میٹرنگ کی نئی گائیڈ لائنز منظور کرالی گئیں۔

شور مچا تو وزیراعظم نے جھٹ سے حکم دیا کہ ’’دھیان سے! عوام کا خیال رکھا جائے‘‘۔ وزیر انچارج بولے کہ صرف ساڑھے چار لاکھ سے کچھ زائد صارفین کا تو مسئلہ ہے۔

اب اتنے کم لوگوں کے لیے پریشانی بنتی ہی نہیں۔ مزید انھوں نے کہا یہ تو فئیر پرائسنگ کی ایک مشق ہے۔ ایک ہاتھ سے 11 روپے کا یونٹ لینا ہے دوسرے ہاتھ سے 50/60 کا دینا ہے۔

اﷲ اﷲ خیر صلا۔ اپوزیشن اور اتحادیوں نے موقع غنیمت جانا اور تنقید کی بوچھاڑ کر دی۔ اب جواب اور جواب الجواب کے ہنگامے میں پرنالہ وہیں ہے جہاں سرپنچوں نے سوچ رکھا تھا۔

دس پندرہ سال میں صارفین کی اربوں روپے کی خطیر سرمایہ کاری اور جاری فوائد کا منظر اب تلپٹ ہو رہا ہے۔ حکومت بظاہر صارفین سے ہمدردی کی دعوے دار ہے لیکن عملاً نیٹ میٹرنگ کی پالیسی نے راستہ بدل لیا ہے۔ حکومت کی اس ’’بظاہر‘‘ پشیمانی پر سلیم کوثر یاد آئے۔

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں، دیکھنا انھیں غور سے

جنھیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

وہی منصفوں کی روایتیں، وہی فیصلوں کی عبارتیں

مرا جرم تو کوئی اور تھا، پہ مری سزا کوئی اور ہے

حالیہ سالوں میں یہ پہلا موقع نہیں ہے، جب حکومت کی کسی پالیسی یو ٹرن نے صارفین کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری کا منظر تلپٹ کر کے رکھ دیا۔ یادش بخیر 20/ 25 سال پہلے سی این جی کا شور و غوغا بھی کچھ اسی طرح کا تھا۔

جا بہ جا سی این جی فلنگ اسٹیشنز، گاڑیوں میں اربوں روپے کی سی این جی کٹس اور ایک پوری نئی سپلائی چین بینکوں کے قرضوں سمیت وجود میں آئی ، لیکن ایک دن وہ گیس جس کے بل بوتے پر یہ پالیسی نافذ ہوئی، اچانک انکشاف ہوا کہ وہ تو ہوا ہو گئی۔

یوں پالیسی واپس ہوئی اور اربوں روپے بھی ہوا ہو گئے۔ اصولاً حکومت کو پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ادراک ہونا چاہیے تھا۔تمام اعداد و شمار گواہی دے رہے تھے کہ پاکستان میں گیس کے ذخائر ناکافی ہیں لیکن اس کے باوجود طاقتور لابیوں کے دباؤ کے تحت کھاد کمپنیوں، پاور جنریشن یونٹس اور سی این جی کے کنکشن دیے گئے۔

بہتر استعمال اور کفایت سے گیس کے جو ذخائر 15 / 20 سال مزید کام آ سکتے تھے، حکومت کی ناعاقبت اندیشیانہ فیصلوں کی وجہ سے چند ہی سالوں میں ہوا ہو گئے۔ طویل مدت دور رس معاملات پر حکومت کی فیصلہ سازی کا ٹریک ریکارڈ کچھ ایسا ہی رہا ہے بالعموم۔

ہمارے ہاں طویل مدت کے فیصلے نان ٹیکنیکل لوگ کرتے ہیں۔ افسروں کا ایک اعلی طبقاتی گروپ ان تمام پالیسیوں پر حاوی رہا ہے۔

انرجی پالیسیوں کو لیجیے۔ آئی پی پی کو لائسنس دیتے وقت معلوم ہونا چاہیے تھا کہ روپے ڈالر کی شرح مبادلہ میں انقلابی تبدیلیاں ممکن ہیں( جیسے ایشین کرنسی کرائسز کے دوران بھی ثابت ہو چکا)۔ باقی کی کہانی آپ سب کو معلوم ہے۔

1994 میں پہلی بار پاور پالیسی اناؤنس کی گئی۔ اس کے بعد سے چند بار پالیسی میں تھوڑی بہت تبدیلی کی گئی لیکن پالیسی کے بنیادی خدوخال اور رعایتیں جوں کی توں برقرار رکھی گئیں۔ اس پالیسی کے معمار اور بعد ازاں انھی پالیسیوں میں کمی بیشی کر کے جاری رکھنے والی دونوں سیاسی جماعتیں حکومت میں ہیں۔

بجلی کے بحران اور حالیہ نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی تبدیلی کو صرف ریگولیٹری مسئلہ سمجھنا بہت سادہ لوحی ہوگی۔ اصل مسئلہ ماضی میں پیوست ہے، جب توانائی کی پالیسیاں قومی مفاد کی بجائے وقتی سیاسی ضرورتوں، طاقتور مفادات اور انتظامی سہل پسندی کے تابع تھیں۔

اس کا خمیازہ آج عوام، صنعت اور کاروباری شعبہ بھگت رہے ہیں۔ تاہم مستقل حل کی طرف حکومت اور سیاستدان سنجیدہ نہیں۔ اسی بناء پر انرجی کا مستقبل اسی بنیاد پر مخدوش نظر آتا ہے۔

پاکستان میں صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی اوسط لاگت حالیہ برسوں میں تقریباً 13–16 امریکی سینٹ فی یونٹ تک جا پہنچی ہے۔

اس کے مقابلے میں بھارت میں یہی قیمت 6۔3–9 سینٹ، چین میں 7۔7–8 سینٹ، اور بنگلہ دیش میں تقریباً 8–10 سینٹ کے درمیان ہے۔ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمت میں معمولی فرق برآمدی مسابقت میں کئی فیصد فرق پیدا کر دیتا ہے۔

جب صنعتی بجلی کی لاگت خطے سے کئی سینٹ زیادہ ہو، تو برآمدات دباؤ میں آتی ہیں، سرمایہ کاری سست پڑتی ہے اور روزگار کے مواقع محدود ہوتے ہیں۔

یہ فرق اتفاقیہ نہیں۔ پچھلی دو دہائیوں میں توانائی کے شعبے میں کیے گئے فیصلے، نجی پاور پراجیکٹس، طویل المدتی معاہدات، ڈالر انڈیکسڈ ادائیگیاں، کیپسٹی پیمنٹس اور درآمدی ایندھن پر بڑھتا انحصارنے ایک ایسا نظام بنایا جس میں اصل ترجیح نظام کی پائیداری نہیں بلکہ مخصوص مفادات کی حفاظت تھی۔

بجلی پیدا ہو یا نہ ہو، ادائیگی لازمی ہے۔ ڈالر مہنگا ہو تو صارف کا بل بڑھ جاتا ہے، چاہے عالمی ایندھن سستا ہی کیوں نہ ہو۔

مستقل حل کی طرف حکومت کو رجوع کرنا ہوگا: کیپسٹی پیمنٹس اور ڈالر انڈیکسڈ معاہدات پر شفاف اور غیر جانبدارانہ نظرِ ثانی، تقسیم کار کمپنیوں کی اصلاح اور لائن لاسز کم کرنا، صنعتی ٹیرف کو عالمی منڈی کے تقاضوں کے مطابق مسابقتی بنانا، اور قابل تجدید ذرائع کے ضم کے لیے گرڈ میں سرمایہ کاری۔

اگر یہ اقدامات نہیں کیے گئے تو سولر صارف کی حوصلہ شکنی صرف قیدیوں کو دوبارہ زنجیر پہنانے کے مترادف ہوگی، اور توانائی کا مستقبل مزید مخدوش رہے گا۔

سیاسی قیادت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ وقتی سکون چاہتی ہے یا دیرپا استحکام۔ بصورتِ دیگر، مہنگی اور غیر مؤثر توانائی محض اقتصادی مسئلہ نہیں، بلکہ قومی مسابقت اور سماجی استحکام کا سوال بنا رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری اربوں روپے نیٹ میٹرنگ سی این جی حکومت کی کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف