پہلگام حملے کو بھارت کی چال قرار دینے پر آسام کے رکن اسمبلی گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
پہلگام حملے بھارت کی اپنی سازش قرار دیے جانے پر بھارتی صوبے آسام کے ایم ایل اے (رکن اسمبلی) امین الاسلام کو گرفتار کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام حملہ بھارتی سازش، مودی سرکار جنگ کا بہانہ ڈھونڈ رہی ہے، مشعال ملک
بھارتی میڈیا کے مطابق آسام پولیس نے امین الاسلام کے تبصرے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اپنے طور پر (سو موٹو) مقدمہ درج کیا۔
متعلقہ پولیس نے کہا ہے کہ ’ایم ایل اے امین الاسلام کے عوام میں گمراہ کن اور اکسانے والے بیان کی بنیاد پر جو ویڈیو وائرل ہوئی اس سے ایک منفی صورتحال پیدا کرنے کا امکان تھا اس لیے ان کے خلاف مقدمہ دج کرکے انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: پہلگام حملہ: پاکستان کیخلاف بھارتی میڈیا کا شیطانی پروپیگنڈا بے نقاب
آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے رکن اسمبلی امین الاسلام کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیراعلٰی آسام ہمنتا بسوا سرما کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حمایت کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا اور اس معاملے کو منتقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
یاد رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کم از کم 27 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
مزید پڑھیں: پہلگام حملہ: بھارتی بیانیہ مسترد، کشمیریوں نے مودی سرکار کی ’چال‘ قرار دیدیا
عجیب بات یہ ہے کہ سہ پہر 3 بجے کے قریب ہونے والے اس حملے کے صرف 3 منٹ بعد ہی بھارت سے ہونے والے ٹوئٹس میں اس کا الزام پاکستان کے سر منڈھ دیا گیا تھا۔ پاکستان نے اس واقعے میں اپنے کسی بھی کردار سے انکار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی سوشل میڈیا گیدڑ بھبکیاں مار رہاہے، پہلگام سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں، چوہدری پرویز اقبال لوسر
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت سے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیے جانے والے پیغامات اور وہاں کے بیشتر ٹی وی چینلز پر سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے سمیت مختلف اقدامات کے اشارے کیے جا رہے تھے اور بعد میں بھارتی حکومت کی جانب سے وہی اعلانات کیے گئے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا بھارتی ایجنسیز کی دی گئی لائن پر وہ سب باتیں کر رہا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسام آسام کے ایم ایل اے امین الاسلام گرفتار بھارت رکن اسمبلی آسام امین الاسلام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سام کے ایم ایل اے امین الاسلام گرفتار بھارت رکن اسمبلی ا سام امین الاسلام امین الاسلام رکن اسمبلی سوشل میڈیا
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔