اجلاس میں کہا گیا کہ کشمیری اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جن کی ضمانت انہیں اقوام متحدہ نے دے رکھی ہے، پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل حسین براہیم طحہ پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر اور مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور پابندیوں کی طرف فوری توجہ دیں۔ ذرائع کے مطابق سول سوسائٹی کے ارکان ڈاکٹر زبیر احمد راجہ، محمد فرقان، محمد اقبال شاہین اور سید حیدر حسین نے سرینگر میں ایک اجلاس میں کہا کہ بی جے پی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں مظلوم عوام کے تمام سیاسی اور قانونی حقوق سلب کر رکھے ہیں اور آزادی پسند رہنمائوں، کارکنوں، صحافیوں اور بھارتی حکومت کی ظالمانہ اور کشمیر دشمن پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت قابض انتظامیہ بھارتی فوج، پولیس اور ایجنسیوں کو استعمال کر کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے اور عام لوگوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے اور اس نے سینکڑوں سیاسی کارکنوں کے خلاف کئی دہائیوں پرانے مقدمات کو دوبارہ کھول دیا ہے۔

سیاسی کارکنوں کو اکثر تھانوں میں بلایا اور ہراساں کیا جاتا ہے، ان کی توہین کی جاتی ہے اور عدالتوں کے چکر لگوائے جاتے ہیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ کشمیری سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کو بلاجواز گرفتار کرنا، انہیں کالے قوانین کے تحت نظربند کرنا اور عدالتوں میں پیش کیے بغیر سڑنے کے لئے جیلوں اور تفتیشی مراکز میں چھوڑ دینا، مقدمات میں دفاع کے بنیادی حق سے محروم کرنا، جھوٹے اور من گھڑت مقدمات میں عمر قید اور موت جیسی سزائیں دلوانا اور پرانے مقدمات کو جن میں یہ پہلے ہی بری ہو چکے ہیں، دوبارہ کھولنا ایک معمول بن چکا ہے۔ اجلاس میں اقوام متحدہ اور او آئی سی سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی اختلاف رائے کو کچلنے کے لیے ریاستی جبر اور کشمیری رہنمائوں اور کارکنوں کو سزا دلوانے کے لیے عدلیہ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے روکنے کے لئے بھارت کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کریں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ کشمیری اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جن کی ضمانت انہیں اقوام متحدہ نے دے رکھی ہے، پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اجلاس میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے لیے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار

پشاور:

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔

ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت